سال 2026 میں سعودی عرب میں ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے، جہاں نقدی پر انحصار واضح طور پر کم ہو گیا ہے جبکہ بینک کارڈز اور الیکٹرانک ادائیگی کے ذرائع نے سعودی عرب کے اندر اور بیرونِ ملک سیاحتی لین دین میں مرکزی حیثیت حاصل کر لی ہے۔
مزید پڑھیں
فضائی ٹکٹوں اور ہوٹلوں کی بکنگ سے لے کر خریداری، ریسٹورنٹس اور ذرائعِ نقل و حمل تک، ڈیجیٹل ادائیگیاں اپنی تیزی، تحفظ اور سفر کے دوران اخراجات کے بہتر نظم و نسق کی بدولت اولین انتخاب بن چکی ہیں۔
اس تبدیلی کی تائید سرکاری اشاریے بھی کرتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں کیش ڈیلنگ کا دور بہت جلد ختم ہونے والا ہے۔
جنرل اتھارٹی فار اسٹیٹسٹکس کی جانب سے 2025 میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں افراد کے درمیان الیکٹرانک بینکاری خدمات کے استعمال کی شرح 79.4 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو مالی اور ڈیجیٹل شعور میں اضافے اور سعودی ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق غیر نقدی معاشرے کی جانب تیز رفتار پیش رفت کی واضح علامت ہے۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ الیکٹرانک بینکاری خدمات استعمال کرنے والے سعودی شہریوں کی شرح 86.8 فیصد ہے جو مالی شمولیت کے فروغ میں قومی پالیسیوں کی کامیابی، فِن ٹیک حلوں کے ذریعے لین دین میں سہولت، نقدی پر انحصار میں کمی اور سیاحتی اخراجات کی کارکردگی اور شفافیت میں اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔
مزید برآں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل مہارتوں نے سعودی سیاحوں کے الیکٹرانک ادائیگی کے ذرائع پر اعتماد کو مضبوط کیا ہے اور نقد رقم ساتھ رکھنے سے وابستہ خطرات کو کم کیا ہے جس کے نتیجے میں سفر کا تجربہ بہتر ہوا اور سعودی سیاح سیاحتی مقامات پر ڈیجیٹل ادائیگی پر سب سے زیادہ انحصار کرنے والوں میں شامل ہو گئے ہیں۔
بینکاری انفراسٹرکچر میں مسلسل ترقی اور اسمارٹ ادائیگی حلوں کے پھیلاؤ کے ساتھ توقع ہے کہ آئندہ برسوں میں سعودی سیاحتی شعبہ مزید ڈیجیٹل تبدیلی کا شاہد بنے گا جہاں الیکٹرانک ادائیگی سفر کے تجربے کی بنیادی ستون بن جائے گی اور ایک ایسے نئے دور کی علامت ہوگی جس میں عملی طور پر نقدی کا دور اختتام پذیر ہو چکا ہے۔