مولانا الیاس گھمن
سرگودھا
اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی صدق دل سے معافی مانگنا، شرمندہ ہونا اور آئندہ ان سے بچنے کا پختہ عزم کرنا ’توبہ‘ کہلاتا ہے۔
نفس و شیطان کے بہکاوے کے ساتھ ساتھ انسان میں نسیان کا عنصر بھی پایا جاتا ہے، اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقے اور شریعت اسلامیہ کی پاکیزہ تعلیمات سے رو گردانی کر بیٹھتا ہے۔
کبھی نفسانی خواہشات، کبھی شیطانی وساوس، کبھی برے ماحول کی وجہ سے، کبھی جہالت اور لاعلمی کی بنیاد پر بد عملی اس سے سرزد ہو جاتی ہے، یہ وہ واقعاتی حقائق ہیں جن سے سب کا اکثر اوقات واسطہ پڑتا رہتا ہے۔
مزید پڑھیں
افسوس کا مقام ہے بلکہ یوں کہئے کہ افسوس صد افسوس یہ ہے کہ ہم جس معاشرے میں پرورش پا رہے ہیں، اس معاشرے میں علم دین، اسلامی تہذیب و تمدن، اخلاقیات و آداب اور احساسِ عبدیت و انسانیت ختم ہوتے جا رہے ہیں، اس لئے معاشرے میں مسلسل بے سکونی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔
آج ہمارے گھروں اورتمام شعبہ ہائے زندگی میں باہمی نفرتیں،آپسی
ناچاقیاں، دوریاں اور لڑائی جھگڑے، فسق و فجور، بری عادات و اطوار، فرنگی تہذیب و کلچر فروغ پا رہا ہے۔
یہ ہم سب کا مشترکہ المیہ ہے جس کا رونا ہم روتے تو رہتے ہیں لیکن اس مصیبت سے عملاً جان چھڑانے کی کوشش نہیں کرتے۔
علم سے دوری، بد عملی، بد اخلاقی، بد امنی، بد تہذیبی، جہالت اور معاشرتی جرائم کا پورا معاشرہ بحیثیت قوم مجرم بن چکا ہے۔
ایسے حالات میں اپنے ماحول کو درست کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں بڑھ کر ہے، اللہ تعالیٰ سے باغی انسانیت کو پھر سے اللہ کے لطف و کرم، فضل و احسان، مہربانی اور رحمت کے قریب کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسے گناہوں کی دلدل سے نکال کر اطاعت و فرمانبرداری کی شاہراہ پر ڈالنا ہوگا جو شاہراہ سیدھی جنت جاتی ہے۔
اس کے لئے بنیادی طور پر جن اوصاف کی ضرورت ہے، ان میں سے ایک وصف یہ ہے کہ برائی اور اس پر ندامت، گناہ اور اس پر شرمندگی کا احساس دلوں میں زندہ ہو جائے۔
یہی احساس انسان کو توبہ پر آمادہ، نیکی پر ابھارتا اور شریعت پر چلاتا ہے۔
اس کو باقی رکھنے کے لئے اپنی زندگی کا محاسبہ کرنا ہوگا کہ ہماری زندگی کس قدر شریعت کے مطابق اور کتنی شریعت کے مخالف میں گزر رہی ہے؟
اگر ہماری زندگی اس رخ پر چل رہی ہے جس پر اللہ اور اس کا رسولﷺ چاہتے ہیں تو ’مقامِ شکر‘ ہے اور اگر خدانخواستہ ہماری زندگی شیطان کی مقرر کردہ پُرخطر راہوں میں سے کسی بھیانک راہ پر چل رہی ہے تو ’مقامِ فکر‘ ہے۔
ہر شخص اپنے گریبان میں جھانک کر اپنے ضمیر کا فیصلہ سن سکتا ہے۔
حالات و واقعات اور زمینی حقائق یہ بتلاتے ہیں کہ اس وقت پوری مسلم امہ گناہوں کے گرداب میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔
بد اعمالیوں کا ایک طوفان ہے جو ہماری ٹوٹی پھوٹی نیکیوں کو بہائے لے جا رہا ہے۔
ہمارے نیک اعمال بھی بعض کبیرہ گناہوں کی وجہ سے مٹتے جا رہے ہیں اس لئے ہمیں اپنے اندر احساس پیدا کرنا ہوگا تاکہ توبہ کی توفیق نصیب ہو۔
توبہ ایسی نیکی ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جلد قبول ہوتی ہے۔ اللہ کو محبوب ہے۔
انسان جب گناہ کرتا ہے تو کراماً کاتبین اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیتے ہیں۔
قیامت کے دن انسان کے اپنے وہ اعضاء جن سے اس نے گناہ کیا ہوگا، زمین کا وہ حصہ جس پر گناہ کیا ہوگا اور نامہ اعمال سب کے سب اس کے خلاف گواہی دیں گے۔
اگر انسان صدق دل سے توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے فرشتوں کو بھلا دیتے ہیں، اعضاء کو بھلا دیتے ہیں، زمین کو بھلا دیتے ہیں اور نامہ اعمال سے مٹا دیتے ہیں۔
دنیاوی و اخروی مصائب و تکالیف سے اسی توبہ کی بدولت نجات ملتی ہے۔
اس سے اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ ہمیں توبہ کی کس قدر ضرورت ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایک بار توبہ ٹوٹ جائے تو پھر توبہ کریں، پھر ٹوٹ جائے پھر توبہ کریں، لاکھ مرتبہ بھی توبہ ٹوٹ جائے پھر بھی توبہ کریں۔
اس اندیشے کی وجہ سے توبہ نہ کرنا کہ کہیں ٹوٹ نہ جائے شیطانی دھوکہ ہے اس سے خود کو بچائیں۔
توبہ کے حوالے سے آیات و احادیث تو بکثرت موجود ہیں لیکن ان میں سے صرف چند ملاحظہ ہوں:
زیادہ توبہ کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
بے شک اللہ تعالیٰ بہت زیادہ توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں۔ (البقرۃ 222)
توبہ سے کامیابیاں ملتی ہیں، ارشاد باری عز و جل ہے:
اے ایمان والو! تم سب کے سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ ( النور 31)
نزع اور سکرات کے وقت یعنی جب روح نکلنے لگے تو اس وقت توبہ قبول نہیں ہوتی، قرآن کریم میں ہے:
ان گناہ گار لوگوں کی توبہ قابل قبول نہیں جب ان کی موت کا وقت سر پر آن پہنچے تو وہ کہے کہ میں اب توبہ کرتا ہوں۔ ( النساء 18)
اللہ تعالیٰ ہمیں توبہ کی توفیق نصیب فرمائے اور ہماری توبہ کو قبول بھی فرمائے۔