اہم خبریں
20 March, 2026
--:--:--

جزیرہ خارگ پر امریکی قبضہ، عملی طور پر ایسا ممکن ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے جزیرہ خارک پر قبضے یا اس کے مکمل محاصرے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اقدام کا مقصد تہران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر مجبور کرنا ہے تاکہ عالمی توانائی سپلائی بحال ہو سکے۔

یاد رہے کہ جزیرہ خارک ایران کے لیے انتہائی تزویراتی اہمیت کا حامل ہے، یہاں سے ملک کے تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔

گزشتہ 2 ہفتوں سے جاری کشیدگی کے دوران یہ جزیرہ امریکی اہداف میں سب سے اہم مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں

یہ جزیرہ ایرانی ساحل سے 26 کلومیٹر دور اور آبنائے ہرمز سے 483 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔

اس جزیرے کی گہری آبی گزرگاہیں ان بڑے آئل ٹینکرز کے لیے موزوں ہیں جو ساحلی علاقوں کے کم گہرے پانیوں میں لنگر انداز نہیں ہو سکتے، جس سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں امریکا کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیوں کے آئل اور گیس کے اثاثوں کو جوابی حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔ 

یاد رہے کہ ایران پہلے ہی آبنائے ہرمز بند کر چکا ہے، جو عالمی تیل کی سپلائی کا اہم ترین راستہ ہے اور جہاں سے دنیا بھر کی 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، جس کا بڑا حصہ ایشیائی منڈیوں کو جاتا ہے۔ 

اس راستے کی بندش سے عالمی منڈیوں میں توانائی کی قیمتوں اور سپلائی پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

دریں اثنا ایرانی میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ بندر لنگہ پورٹ پر ہونے والے مشترکہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 16 بحری جہاز جل کر تباہ ہو گئے ہیں۔ 

یہ واقعہ خطے میں جاری عسکری کشیدگی میں ایک اور سنگین موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔