قابض اسرائیلی فورسز نے آج صبح عید الفطر کے موقع پر سیکڑوں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا۔
مزید پڑھیں
یاد رہے کہ مسجد اقصیٰ کو مسلسل اکیسویں روز بھی بند رکھا گیا ہے، جس کے باعث نمازیوں کی بڑی تعداد نے پرانی بستی اور مسجد کے دروازوں کے قریب نماز ادا کی۔
فلسطینی شہری باب العامود اور باب الساہرہ سمیت مسجد کے قریبی مقامات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جہاں سخت سیکیورٹی حصار کے باوجود فضا تکبیراتِ عید سے گونجتی رہی اور لوگوں نے نماز ادا کی۔
اس دوران قابض فورسز نے باب الساہرہ کے قریب نمازیوں پر زہریلی آنسو گیس اور تشدد کے دیگر حربے استعمال کیے تاکہ انہیں مسجد کی جانب بڑھنے سے روکا جا سکے۔
اسی کارروائی کے دوران صلاح الدین اسٹریٹ سے ایک نوجوان کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
تاہم فلسطینی شہریوں نے تمام تر رکاوٹوں اور جبر کے باوجود مسجد کے اطراف سڑکوں پر نماز عید ادا کی۔
صبح سویرے ہی بڑی تعداد میں لوگ وہاں پہنچے اور پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے تقدس اور اپنے حق کے لیے آواز بلند کی۔
انتظامیہ نے مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش اور نماز پر پابندی کو ایک خطرناک اور غیر معمولی رویہ قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزی ہے جس کا مقصد مسجد کو اس کے فلسطینی اور اسلامی ماحول سے مکمل طور پر الگ کرنا ہے۔