اہم خبریں
20 March, 2026
--:--:--

سعودی معاشرے میں عید کی صبح ’ساعت البکور‘ کی روایت اور اہمیت

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: واس)

سعودی عرب میں عید الفطر کی صبح ایک خاص سماجی روایت ’ساعت البکور‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں

یہ وقت فجر کی نماز اور عید کی نماز کے درمیان کا وقفہ ہے، جس میں خاندان کے افراد اکٹھے ہو کر خوشی اور جوش و خروش کے ساتھ عید کی تیاریوں میں مصروف رہتے ہیں۔

اس مختصر دورانیے میں گھر کے تمام افراد والدین اور قریبی رشتہ داروں کو عید کی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

اس دوران سب لوگ نئے کپڑے پہن کر عید کی نماز کے لیے گھر سے 

نکلنے کی تیاری کرتے ہیں، جو ان کے باہمی تعلق اور خوشی کے اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

’ساعت البکور‘ کے ساتھ کئی قدیم روایات جڑی ہوئی ہیں جن میں ’فطرۃ العید‘ کی تیاری سرفہرست ہے۔

اس دسترخوان پر روایتی کھانے جیسے قرصان اور عریکہ کے ساتھ ساتھ دیسی گھی اور شہد جیسی اشیا پیش کی جاتی ہیں، جو سعودی ثقافت میں مہمان نوازی اور خاندانی اقدار کی عکاس ہیں۔

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری کی جانب سے شائع کردہ انسائیکلوپیڈیا کے مطابق کئی علاقوں میں ہر خاندان عید کے لیے خصوصی روایتی پکوان تیار کرتا ہے۔ 

نماز کے بعد محلے کے لوگ ایک مخصوص جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں قالین بچھا کر بیٹھنے کا انتظام کیا جاتا ہے اور سب مل کر ناشتہ کرتے ہیں۔

اس موقع پر لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں اور کافی کا دور چلتا ہے۔ 

اسی طرح گھروں میں بھی مہمانوں کے استقبال کے لیے خصوصی تیاریاں کی جاتی ہیں، جن میں کمروں کو خوشبو سے معطر کرنا اور بھیڑوں کی اون سے بنی روایتی چادریں اور قالین بچھانا شامل ہوتا ہے جو سعودی مہمان نوازی کی علامت ہیں۔