ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس عائد کرنے اور نئی پابندیاں لاگو کرنے کے ایک منصوبے پر غور کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق تہران کا مقصد آبنائے ہرمز پر اپنے تزویراتی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے ان ممالک کے خلاف جوابی کارروائی کرنا ہے جنہوں نے ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام ایک نئے نظام کے تحت کیا جائے گا جس کا اطلاق خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے بعد کیا جائے گا۔
اس منصوبے کا مقصد ان ممالک کے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو
محدود کرنا ہے جو ایران کے خلاف پابندیوں میں شامل ہیں۔
ایرانی عہدیدار محمد مخبر نے اس حوالے سے واضح کیا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے تزویراتی محل وقوع کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس راستے کو مغربی ممالک کے خلاف پابندیاں لگانے اور ان کے جہازوں کی آمدورفت روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے جہاں سے دنیا بھر کی خام تیل اور ایل این جی کی تقریباً 20 فیصد برآمدات گزرتی ہیں۔
اس آبی گزرگاہ پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ اور سپلائی چین کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔
اس سے قبل بھی ایران اس اہم گزرگاہ پر اپنے مخالفین یا ان کے اتحادیوں سے منسلک بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹیں کھڑی کرتا رہا ہے۔
عالمی برادری نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے اور عالمی توانائی کا تحفظ بھی داؤ پر لگ سکتا ہے۔