عبد الرحمن الراشد
سینئر سعودی تجزیہ نگار۔ الشرق الاوسط
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مزید پڑھیں
خطے کی موجودہ کشیدہ صورت حال کے دوران تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ اپنے مقاصد حاصل ہونے یا بھاری قیمت چکانے پر خلیجی ممالک کو تنہا چھوڑ کر نکل جائیں گے؟
ڈونلڈ ٹرمپ فی الحال ایک مضبوط سیاسی پوزیشن میں ہیں۔ ان کے حامیوں کا 90 فیصد حصہ اس جنگ کی حمایت کر رہا ہے، جو ٹرمپ کے لیے ایک بڑی سیاسی طاقت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ وہ مسلسل میڈیا بریفنگز کے ذریعے عوامی رائے کو ہموار رکھنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
معاشی اثرات اور امریکی ترجیحات
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور روزانہ 2 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل رُکنے سے عالمی منڈی میں قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں، تاہم ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے نظام کا خاتمہ تیل کی قیمتوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
تاریخی تناظر اور امریکی انخلا
امریکہ ماضی میں ویتنام، لبنان اور افغانستان سے انخلا کر چکا ہے، جبکہ کویت کی آزادی اور بوسنیا میں اس نے اہداف حاصل کیے۔
ٹرمپ اس جنگ کو عراق جنگ سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں، اس لیے فی الحال ان کے فوری انخلا کا امکان بہت کم نظر آتا ہے۔
خلیجی ممالک کا موقف اور غیر جانبداری
سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے اس تنازع میں حصہ لینے سے گریز کیا ہے۔ خطے کے ممالک نہ تو اس جنگ کا فریق ہیں اور نہ ہی انہوں نے حالیہ مذاکرات میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔
تمام خلیجی ممالک فی الوقت غیر ضروری طور پر کسی جنگی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔
ایران کی بقا کی حکمت عملی
حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس جنگ کو اپنی بقا کی جنگ قرار دے کر طویل مدت تک کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تہران کو خدشہ ہے کہ ہتھیار ڈالنے یا شکست تسلیم کرنے سے داخلی سطح پر حکومت کا خاتمہ ہو سکتا ہے، اس لیے وہ خود کش طرزِ عمل اختیار کیے ہوئے ہے۔
مستقبل کے امکانات اور علاقائی سیکیورٹی
اگر یہ جنگ مہینوں تک طویل ہوئی تو امریکہ کے لیے اہداف کا حصول مشکل ہو سکتا ہے۔
ایسے میں امریکی بحری بیڑوں کا انخلا ممکن ہے، جس کے بعد بھی ایرانی نظام کے برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ خلیجی ممالک اس تمام صورتحال میں انتہائی محتاط پالیسی پر گامزن ہیں۔
ٹرمپ کی حکمت عملی میں ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا مرکزی اہمیت رکھتا ہے، جس میں 18 دنوں میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔
تاہم جنگ کے طویل اثرات اور خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال خلیجی ممالک کے لیے ایک مستقل چیلنج بنی رہے گی۔