ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ
مکہ مکرمہ
ماہِ رجب کی ابتدا ہماری زبان سے لگی اس دعا سے ہوتی ہے :
’اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان کو با برکت بنادے اور ہمیں رمضان المبارک تک پہنچادے‘۔‘
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں حضرت مالک بن انسؓ کی روایت سے نبی کریمﷺ کی یہ دعا نقل فرمائی ہے کہ جب ماہِ رجب داخل ہوتا تو نبی کریمﷺ فرماتے:
اللہم بارک لنا فی رجب وشعبان وبارک لنا فی رمضان۔
بلا شبہ ماہِ رمضان برکتوں اور رحمتوں کا مہینہ ہے اور اس میں معرفت و عرفان وترقیاتِ روحانی کے مظہر، رحمن کی رحمت، مغفرت اور بے شمار وبلا حساب برکات کا نزول ہوتاہے جبکہ ماہِ شعبان اس ماہِ مبارک کا پیش خیمہ ہے۔
مزید پڑھیں
رمضان المبارک کی آمد سے قبل معبود کی طرف متوجہ ہونا اور اس سے توفیق وبرکات کی درخواست کرنا نبی کریمﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت مطہرہ پر جب ہماری نظر پڑتی ہے تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ آپﷺ ماہِ شعبان میں رمضان کی تیاری میں سرگرداں نظر آتے تھے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ
ماہِ شعبان میں یوں روزے رکھتے تھے کہ ہم سمجھتے تھے کہ آپﷺ افطار نہ کریں گے، پھر ترک فرماتے تھے، ہم سمجھتے تھے کہ ابﷺ روزہ نہیں رکھیں گے۔
نیز فرمایا کہ ’رمضان المبارک کے علاوہ سال کے کسی مہینے میں مکمل ماہ روزے نہیں رکھے اور شعبان کے سوا کسی دیگر مہینے میں زیادہ روزے نہیں رکھے۔ امام بخاری اور مسلم نے اس روایت کو نقل فرمایا ہے۔
اسی کے پیش نظر علمائے کرام نے شعبان کا پورا مہینہ روزہ رکھنے کو مکروہ کہا ہے البتہ شعبان میں کثرت سے روزے رکھنا آپﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔
امام نسائی نے اپنی سنن میں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ذکر فرمائی ہے کہ میں نے آنحضرتﷺ سے پوچھا : جس طرح آپﷺ شعبان میں روزے رکھتے ہیں، میں نے دیگر مہینوں میں آپﷺ کو اس طرح روزے رکھتے نہیں دیکھا تو آپﷺنے فرمایا:
یہ وہ مہینہ ہے جس میں لوگ روزہ رکھنے سے غفلت برتتے ہیں اور یہ مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان ہے۔
نیز فرمایا ’یہ وہ مہینہ ہے جس میں اعمال رب العالمین کے ہاں پیش کئے جاتے ہیں تو میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش ہو کہ میں روزے کی حالت میں ہوں‘۔
اسی طرح امام ابو دادؤد رحمہ اللہ نے اپنی سنن میں یہ روایت نقل فرمائی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں، آنحضرتﷺ کو شعبان میں روزے رکھنا بہت ہی پسندتھا جس کے بعد آپﷺ ماہِ رمضان میں روزے رکھتے تھے۔
امام ابن رجب فرماتے ہیں کہ ماہِ رمضان کا روزہ اشہر حرم کے روزوں سے افضل ہے اور بہترین نفلی روزہ رمضان المبارک سے پہلے اور اس کے بعد کا ہے۔
نیز فرماتے ہیں کہ ’ماہِ شوال اور شعبان کے روزوں کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے کہ فرائض سے پہلے سنتوں کی۔ گویا اس سے فرائض میں پیش آنے والے نقص کی تکمیل ہوجاتی ہے۔
ماہ شعبان استقبال رمضان کی تیاریوں کا پیش خیمہ ہے۔
شعبان سے ہی رمضان کی تیاریاں شروع کرلینی چاہئیں جیساکہ نبی کریمﷺ کا معمول تھا۔
آپﷺ نے اپنی معمولات سے امت کو یہ درس دیا ہے کہ کمر بستہ ہو کر رمضان کی تیاری شعبان سے ہی شروع کردینی چاہئے۔
دیلمی رحمہ اللہ نے آنحضرتﷺ کی یہ مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ: شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے، نیز شعبان طہارت کرنے والا اور رمضان کفارہ کردینے والا مہینہ ہے۔
مردِ مسلم یہ بات ذہن نشین کر لے کہ اسے روحانی ترقی اور طہارت صرف اور صرف سنت کی اتباع سے حاصل ہوگی اور اس کا کفارہ صرف اسوۂ حسنہ کو اختیار کرنے میں ہی ہے۔
امام بیہقی نے روایت کیا ہے، نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’اللہ تعالیٰ نصف شعبان کو آسمانِ دنیا پر نازل ہوتے ہیں، پھر ہر شخص کی مغفرت فرمادیتے ہیں سوائے شرک کرنے والے اور دل میں بغض رکھنے والے کے۔
یہاں اس بات کی طرف توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے کہ کچھ ایسی اخلاقی اور شرعی جرائم ہیں جن کی وجہ سے بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مبارک شب وروز میں بھی محروم رہتے ہیں۔
مختلف احادیث میں ان کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔
شرک کرنا: یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات میں کسی دوسرے کو شریک کرنا۔ اس کا علاج توحیدِ خالص ہے۔
کینہ اور بغض: دوسروں کیلئے دل صاف نہ ہو۔ اس کا علاج عفو و درگزر اور میل ملاپ رکھنا ہے۔
قطع رحمی کرنا: اپنے اعزہ اور اقرباء سے میل جول نہ رکھنا۔ اس کا علاج صلہ رحمی اور رشتہ داروں کے شرعی حقوق کی پاسداری کرنا ہے۔
والدین کی نافرمانی کرنا: یہ کبائر میں سے ہے، اس کا علاج فوری توبہ اور والدین کی اطاعت ہے۔
کسی انسان کو ناحق قتل کرنا: یہ بھی کبائر میں سے ہے۔ یہ اشرف المخلوقات کے شرف اور اس کی تکریم کے ضابطے کو توڑنا ہے۔ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہوتا ہے۔
بدکار مرد و عورت۔ جائز طریقے سے نفسانی خواہشات کی تکمیل انسانی نسل اور اس کی عزت کی تحفظ کی امین ہے۔ خواہشات کو آزادانہ طورپر حیوانات کی طرح پورا کرنا اللہ تعالیٰ کے ہاں فسق و فجور ہے۔
مردوں کا تکبر کے ساتھ ٹخنوں تک لباس لٹکانا: رسول اللہﷺ کے فرمان کی روشنی میں جو ازار بھی ٹخنوں سے نیچے ہوگا، وہ دوزخ میں ہوگا۔
شراب نوشی: اسلام میں ہر نشہ آور مشروب حرام ہے۔حدیث کی روشنی میں جو شخص شراب پیتا ہے اس کی 40 روز کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں، اگر وہ اپنے پیٹ میں شراب لے کر مرتا ہے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
اکڑ بکڑ بمبے بو، اسی نوے پورے سو۔ سو میں لگا دھاگا، چور نکل کے بھاگا۔ سپاہی بن کے آؤں گا، اچھا کھانا کھاؤں گا۔ ریل بولی چکھا چکھ، نان پاؤ بسکٹ۔اکڑ بکڑ بمبے بو، اسی نوے پورے سو۔ سو میں لگا دھاگا، چور نکل کے بھاگا۔ سپاہی بن کے آؤں گا، اچھا کھانا کھاؤں گا۔ ریل بولی چکھا چکھ، نان پاؤ بسکٹ۔ اکڑ بکڑ بمبے بو، اسی نوے پورے سو۔ سو میں لگا دھاگا، چور نکل کے بھاگا۔ سپاہی بن کے آؤں گا، اچھا کھانا کھاؤں گا۔ ریل بولی چکھا چکھ، نان پاؤ بسکٹ۔
شعبان کا مہینہ چونکہ طہارت کا مہینہ ہے، اس لئے اہل ایمان کو اس ماہ فضیلت میں خاص اہتمام سے گناہوں سے توبہ کرلینی چاہئے تاکہ ان کے باطن کا خوب تزکیہ ہو تاکہ وہ ماہِ رمضان کا استقبال بہتر کیفیات کے ساتھ کرسکیں۔
ان مبارک ایام میں اپنے لئے، پوری امت مسلمہ کیلئے جملہ خیر کی دعا کریں اور دیگر راہِ ہدایت سے بھٹکی انسانیت کیلئے بھی اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کریں۔
در اصل یہی ان ایام کا وہ مبارک ثمرہ ہے جس کی لذت سے ہمیں محظوظ ہونا چاہئے۔
حق تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے عظیم الشان مہمان کی آمد سے پہلے پہلے عمدہ اخلاق اور عالی صفات سے مزین فرمادے کہ ہم خوب سیرت ہوکر اپنے اس مہمان کا استقبال کریں جس کی آمد کے ہم منتظر ہیں اور زبان سے دعاگو ہیں کہ: اے اللہ! تُو ہمارے ماہِ شعبان میں برکت عطا فرما اور ہمیں صحت وعافیت سے ماہِ رمضان تک پہنچا۔