امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کے عسکری اور سیاسی حلقوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مؤثر حکمت عملی وضع کی جائے۔
مزید پڑھیں
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ اب صرف فضائی حملوں تک محدود رہنے کے بجائے زمینی کارروائیوں کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
اس مقصد کے لیے امریکی وزارت دفاع نے 2200 اہلکاروں پر مشتمل 31 ویں میرین ایکسپیڈیشنری (سمندری مہم جُو) یونٹ مشرق وسطیٰ بھیج دیا ہے۔
یہ فورس یو ایس ایس طرابلس نامی حملہ آور بحری جہاز پر تعینات ہے، جو ایک متحرک فوجی اڈے کے طور پر کام کرتا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
اس یونٹ میں بکتر بند گاڑیاں، توپ خانہ، ایف 35 بی لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹرز اور لاجسٹک سپورٹ کے ماہرین شامل ہیں جو پیچیدہ آپریشنز کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ممکنہ امریکی اقدام کی بنیادی وجہ ایران کی جانب سے پیدا کی گئی تجارتی جہاز رانی میں مسلسل رکاوٹیں ہیں، جس سے آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہو چکا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے باوجود ایرانی فورسز جہاز رانی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
میزائل لانچ سائٹس اور ڈرون گوداموں کو نشانہ بنانے کے باوجود ایرانی صلاحیتیں مکمل ختم نہیں ہو سکیں، جس نے واشنگٹن کو زمینی کنٹرول حاصل کرنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا ہے۔
عسکری ماہرین کے مطابق جزیرہ خارک، قشم اور کیش جیسے ایرانی جزائر اسٹریٹیجک اہمیت کے حامل ہیں۔
جزیرہ خارک ایرانی تیل کی برآمدات کا مرکزی مرکز ہے، جبکہ دیگر جزائر کو تیز رفتار کشتیوں اور میزائلوں کو چھپانے کے لیے لاجسٹک نوڈز کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل فرینک میکنزی کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس 2 راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ ایران کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جائے، جس سے عالمی معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا، یا پھر اہم تنصیبات پر قبضہ کر کے تہران پر دباؤ ڈالا جائے۔
اس مقصد کے لیے بحری جہازوں سے براہ راست لینڈنگ، ہیلی کاپٹرز کے ذریعے فضائی حملے یا خلیجی ممالک میں موجود اڈوں کا استعمال ممکن ہے۔
قشم جزیرہ آبنائے کے داخلی راستے پر کنٹرول رکھتا ہے اور وہاں زیر زمین سرنگوں میں عسکری تنصیبات موجود ہیں جو امریکی ہدف ہو سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر امریکی عسکری سوچ میں یہ تبدیلی نمایاں ہے کہ دُور سے حملے کرنے کے بجائے آبنائے ہرمز کے جغرافیائی مقامات پر قبضہ کیا جائے۔ یہ حکمت عملی ایران کی غیر روایتی جنگی صلاحیتوں اور چھپ کر حملے کرنے کی حکمت عملی کو ناکام بنانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔