جدہ میں واقع کنگ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال میں ایک 12 سالہ بچی مریم عبدالرحمن العتیبی کے گردے کی کامیاب پیوند کاری کا عمل مکمل ہو گیا۔
مزید پڑھیں
یہ طبی کامیابی ایک سعودی شہری فوزی صنات الحارثی کے جذبہ ایثار کی مرہون منت ہے جنہوں نے بچی کو گردہ عطیہ کیا۔
بچی کافی عرصے سے گردے کے عارضے میں مبتلا تھی اور اسے اپنی زندگی بچانے کے لیے فوری طور پر ٹرانسپلانٹ کی شدید ضرورت تھی۔
الحارثی نے انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت بغیر معاوضے اپنا گردہ عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ بچی کی تکلیف ختم ہو سکے۔
یہ پیچیدہ طبی عمل گزشتہ اتوار کو جدہ کے کنگ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال میں ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کی زیر نگرانی انجام دیا گیا۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق آپریشن مکمل طور پر کامیاب رہا اور دونوں افراد کی صحت کی نگرانی کے لیے طبی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔
اس اقدام کو سعودی معاشرے میں باہمی تعاون اور فلاحی اقدار کی ایک روشن مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اعضا عطیہ کرنے کا یہ رجحان نہ صرف مریضوں کو نئی زندگی فراہم کرتا ہے بلکہ معاشرے میں ہمدردی اور انسانیت کے جذبات کو بھی فروغ دیتا ہے۔
فوزی صنات الحارثی کے اس غیر مشروط عطیے کو عوامی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔