چین میں کی گئی ایک نئی تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ اینٹی بایوٹکس کا حد سے زیادہ استعمال صرف جراثیم کی مزاحمت میں اضافے یا نظامِ ہاضمہ کی خرابی تک محدود نہیں رہتا بلکہ آنتوں کے مائیکروبیوم کو نقصان پہنچا کر دماغی افعال سے وابستگی کے باعث ذہنی صحت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
ویب سائٹ ’میڈیکل ایکسپریس‘ پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق چونگ چنگ میڈیکل یونیورسٹی سے وابستہ اسپتال کے محققین کی اس تحقیق میں اینٹی بایوٹک علاج اور انسانوں میں زیادہ سطح کے اضطرابی اشاریوں، نیز چوہوں میں اضطراب سے مشابہ رویّوں کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔
تحقیقی ٹیم نے بالغ چوہوں پر اینٹی بایوٹکس کے اثرات کا جائزہ لیا ہے۔
نتائج کا موازنہ تین انسانی گروہوں کے ڈیٹا سے کیا : وہ مریض جنہوں نے حال ہی میں اینٹی بایوٹکس استعمال کی تھیں، وہ افراد جنہوں نے یہ ادویات استعمال نہیں کیں اور صحت مند افراد۔
محققین نے بتایا کہ اینٹی بایوٹکس کا وسیع پیمانے پر غلط استعمال ہو رہا ہے اور خبردار کیا کہ یہ ذہنی صحت کے لیے ممکنہ خطرے کا عنصر بن سکتی ہیں۔
حیوانی تجربات میں، محققین نے چوہوں میں واضح طور پر اضطراب سے ملتے جلتے رویّے ریکارڈ کیے، جو آنتوں کے بیکٹیریا کی ساخت میں تبدیلی، مختصر سلسلہ فیٹی ایسڈز میں کمی اور آنتوں و دماغ کے درمیان چکنائی کے استقلاب میں خلل کے ساتھ ظاہر ہوئے۔
اس کے علاوہ، آنتوں اور دماغ دونوں میں اعصابی کیمیائی مادّے ایسٹائل کولین کی سطح میں نمایاں کمی بھی نوٹ کی گئی، جس کے بارے میں محققین کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق اضطراب سے مشابہ رویّوں سے گہرا ہے۔
جرنل Molecular Psychiatry (مولیکیولر سائیکیٹری) میں شائع اس تحقیق کے مطابق، تجزیوں سے اس امکان کی نشاندہی ہوئی ہے کہ Bacteroides نسل کے بیکٹیریا اور ایسٹائل کولین، اینٹی بایوٹکس سے وابستہ اضطراب میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
محققین نے مزید بتایا کہ ایسٹائل کولین سے ماخوذ مرکب میتھا کولین کے ذریعے مداخلت کرنے سے تجربہ گاہ میں چوہوں کے اضطرابی علامات میں کمی دیکھی گئی۔
تحقیقی ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا کہ اینٹی بایوٹکس کے کثرت سے استعمال کے مزاج پر منفی اثرات کو اجاگر کرتے ہیں، اور ساتھ ہی یہ امکان بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ایسٹائل کولین یا اس کے مشتقات کے ذریعے ان اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان نتائج کو وسیع پیمانے پر طبی عملی اطلاق میں لانے سے قبل مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔