ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری براہ راست فوجی تصادم انیسویں روز بھی شدت کے ساتھ جاری رہا۔
مزید پڑھیں
28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ کے نتیجے میں پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدہ صورت حال پیدا کردی ہے، جس کے باعث جانی نقصانات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔
فریقین کے ایک دوسرے کے خلاف دعووں اور مسلسل بڑھتی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے کسی بھی سطح پر تناؤ میں کمی کے آثار بالکل دکھائی نہیں دے رہے۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
تل ابیب پر ایرانی میزائل حملہ
ایران نے تل ابیب کے اہم علاقوں رامات گان اور حولون کو نشانہ بنایا، جس میں 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
تہران کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ ان حملوں میں کلسٹر وار ہیڈز والے میزائل استعمال کیے گئے، جو ایرانی سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کے قتل کا بدلہ ہیں۔
واضح رہے کہ جنگ کے آغاز سے قب تک اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 14 ہوگئی ہے جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی جوابی کارروائیاں
اُدھر اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ایرانی وزیر انٹیلی جنس اسماعیل الخطیب کو حملے میں ہلاک کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی قیادت نے اپنی فوج کو کسی بھی اعلیٰ ایرانی عہدیدار کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کھلی اجازت دے دی ہے۔
ایران میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملہ
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جنوبی علاقے میں ساؤتھ پارس جنوبی گیس فیلڈ اور عسلویہ کے علاقے دشمن کے میزائلوں کا نشانہ بنے ہیں، جس سے تنصیبات میں آگ لگ گئی۔
اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ فضائیہ نے جنوب مغربی ایران میں گیس پروسیسنگ پلانٹ کو نشانہ بنایا۔
علی لاریجانی کا قتل اور بدلتے حالات
ایرانی سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی اسرائلی حملے میں ہلاکت کو جنگ کا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس حملے میں ان کے بیٹے اور نائب بھی نشانہ بنے ہیں۔
دریں اثنا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کسی بھی صلح کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ ایرانی فوج نے امریکا کو نئے ’حیران کن‘ جوابی اقدامات کی تنبیہ کی ہے۔
بیروت پر شدید بمباری
اسرائیلی طیاروں نے بیروت کے وسطی رہائشی علاقوں کو بغیر انتباہ کے نشانہ بنایا، جس سے 12 افراد ہلاک اور 41 زخمی ہوگئے۔
حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار نے اپنے سیاسی پروگرام کے ڈائریکٹر محمد شری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ اسی دوران صور شہر کو بھی خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
خلیجی ممالک پر حملے اور ریاض میں اجلاس
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین نے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کو فضا میں ناکارہ بنایا۔
ان حملوں کے تناظر میں سعودی درالحکومت ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی مشاورتی اجلاس بھی بلایا گیا ہے تاکہ خطے کی تنصیبات کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
آبنائے ہرمز اور جوہری خدشات
امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی میزائل ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تاکہ بین الاقوامی جہاز رانی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
دریں اثنا بوشہر جوہری پلانٹ کے قریب گولہ باری سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے جوہری تباہی کے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین کو تحمل کا مشورہ دیا ہے۔
جنگ کا پھیلاؤ اور داخلی صورتحال
ایران میں جاسوسی کے الزام میں پھانسیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جنگ کے نتیجے میں ایران میں اب تک 3 ہزار، جبکہ لبنان اور اسرائیل میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
خطے کے موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ ایک طویل اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں ہے۔