عبد المحسن محمد الحارثی
سعودی تجزیہ نگار۔ سبق
یہ کوئی مؤخر کی گئی جنگ ہے، نہ ہی کوئی سیاہ پیش گوئی بلکہ ایک ایسا راستہ ہے جو خاموشی سے شروع ہو چکا ہے: کھربوں ڈالر کے قرضے، سونے کی بلاجواز بڑھتی ہوئی قیمتیں، نیابتی جنگوں کے ذریعے چلائے جانے والے تنازعات اور بڑی طاقتوں کا جلتے ہوئے محاذوں کو ٹھنڈا کرنا کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ ہمہ گیر دھماکہ اب کسی کے لیے فتح نہیں رہا۔
دوسرے لفظوں میں ایک بحران زدہ معیشت، قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا عالمی چوکیدار اور تائیوان پر نظر جمائے بیٹھا ہوا اژدہا، ان سب کے بیچ ایک ایسی جنگ تشکیل پا رہی ہے جس کے بیانات جاری نہیں ہوتے مگر مفادات کی خاموش منطق سے چلائی جاتی ہے، اور جس کی قیمت گولیوں سے نہیں بلکہ خوف سے لگائی جاتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں یک قطبی بالادستی تحلیل ہوتی ہے اور کثیر القطبی دنیا کا ظہور ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں
تیسری عالمی جنگ نہ تو پیش گوئیوں کی کتابوں میں مؤخر کوئی واقعہ ہے، نہ ہی محض خوف پھیلانے کے لیے بلائی جانے والی تاریک پیش گوئی بلکہ ایک تدریجی عمل ہے جو برسوں پہلے شروع ہوا، سرد قدموں کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور نیابتی جنگوں، معاشی پابندیوں اور اثر و رسوخ کی اُن کشمکشوں کے پیچھے چھپا ہوا ہے جن کے اصل نام کبھی اعلان نہیں کیے جاتے۔
آج ہم کسی بڑے دھماکے کا مشاہدہ نہیں کر رہے بلکہ اس کے ابتدائی آثار دیکھ رہے ہیں کیونکہ تاریخ جیسا کہ الیکسی دی توکفیل نے کہا ’اچانک حرکت میں نہیں آتی بلکہ جیسے خیالات کے لیے زمین ہموار کرتی ہے ویسے ہی آفات کے لیے بھی‘۔
دنیا اخلاقیات سے نہیں بلکہ مفادات کی بنیاد پر چلتی ہے۔
جب مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو طاقت کی از سرِ نو تقسیم خاموشی سے ہوتی ہے اور جب وہ متوازی چلتے ہوئے آپس میں نہیں ملتے تو رگڑ شروع ہو جاتی ہے۔
حقیقی خطرہ تصادم میں نہیں بلکہ اتفاق کے ناممکن ہو جانے میں ہے کیونکہ عدمِ اتفاق کوئی غیر جانب داری نہیں بلکہ ایک خلا ہے اور سیاست میں ہر خلا کسی نہ کسی قوت کو جنم دیتا ہے۔
ایک خاص مقام پر پہنچ کر یہی خلا زبردستی کے اتصال میں بدل جاتا ہےـ ایسا اتصال جسے سب نہیں چنتے مگر سب پر مسلط ہو جاتا ہے۔
اس منظرنامے کے سامنے دنیا دو ہی امکانات کے درمیان کھڑی ہے، تیسرا کوئی راستہ نہیں:
یا تو اثر و رسوخ کی عقلی تقسیم، جو حقیقت پسندانہ امکان ہے کیونکہ زمین کی مکمل تباہی اب کسی کے لیے بھی فتح نہیں رہی یا پھر ایک اچانک اور ناگزیر تصادم، جس میں انتہائی طاقت کو اخلاقی انتخاب کے طور پر نہیں بلکہ آخری فیصلے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
یوں ہی دوسری عالمی جنگ ایک ہی ضرب پر ختم ہوئی تھی، کسی اخلاقی فتح پر نہیں۔
اور جیسا کہ ریمون آرون نے کہا ’امن جنگ کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اس کے امکان کی مستقل نگرانی ہے‘۔
پھر سوال یہ ہے کہ اس اجتماعی ادراک کے باوجود دنیا آج تصادم کے کنارے کے اتنی قریب کیوں محسوس ہوتی ہے؟
اس کا جواب توپوں سے نہیں، معیشت سے شروع ہوتا ہے۔
وہ عالمی چوکیدار جس نے دہائیوں تک کبھی نرم طاقت اور کبھی سخت طاقت کے ذریعے نظام نافذ رکھا، آج کھربوں ڈالر کے قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب سلطنتیں اپنے بل ادا کرنے سے قاصر ہو جائیں، تو وہ مالی بحران کو جغرافیائی سیاست میں بدلنا شروع کر دیتی ہیں۔
قرض اعداد و شمار سے نہیں مٹتا بلکہ وسائل، اثر و رسوخ اور رسد کی لائنوں سے چکایا جاتا ہے۔
اسی کے متوازی، ایشیائی اژدہا نپی تلی خاموشی کے ساتھ ابھر رہا ہے۔
تائیوان محض بحیرۂ چین میں ایک جزیرہ نہیں بلکہ مستقبل کی ٹیکنالوجی، سپلائی چینز اور بحری توازن کی ایک اسٹریٹجک گرہ ہے۔
اگر اس کا الحاق ہوا تو وہ محض ایک عسکری قدم نہیں ہوگا بلکہ یک قطبی دنیا کے وہم کے خاتمے کا کھلا اعلان ہوگا۔
نپولین نے درست کہا تھا ’چین کو سونے دو، جب وہ جاگے گا تو دنیا لرز اٹھے گی‘۔
ان سب کے درمیان کچھ ایسے اشارے بھی ہیں جو توپوں کی آواز سے کم خطرناک نہیں، جن میں سب سے نمایاں سونے کی بلاجواز قیمتوں میں اضافہ ہے۔
سونا اس لیے نہیں بڑھتا کہ منڈیاں پُراعتماد ہوں بلکہ اس لیے بڑھتا ہے کہ وہ خوف زدہ ہوتی ہیں۔
یہ گہرے اضطراب کا آئینہ اور تاریخ کا وہ ملجأ ہے جب کرنسیاں اپنا اعتبار کھو دیتی ہیں اور بڑی طاقتیں اپنا یقین۔
اور جیسا کہ ایلن گرینسپین نے کہا ’سونا وہ واحد کرنسی ہے جسے خوف کے وقت چھاپا نہیں جا سکتا‘۔
آج اس کا بڑھنا کوئی عارضی معاشی واقعہ نہیں بلکہ ایک غیر یقینی مستقبل کی نفسیاتی قیمت گذاری ہے۔
اسی کے مقابل، ہم عالمی چوکیدار کی جانب سے جلتے ہوئے محاذوں کو ٹھنڈا کرنے کا رویہ دیکھتے ہیں: بحرانوں کا انتظام، انہیں بھڑکانے کے بجائے تنازعات کو محدود کرنا، انہیں عام کرنے کے بجائے۔
یہ طرزِ عمل کمزوری نہیں بلکہ اس گہرے ادراک کا اظہار ہے کہ تباہ کن جنگیں قابو سے باہر ہو چکی ہیں اور پہلی ضرب اب دوسری سے بچنے کی ضمانت نہیں دیتی۔
یہاں کلاوزوِٹس کا قول الٹی صورت میں یاد آتا ہے ’جب جنگ ناقابلِ حساب ہو جائے تو سیاست آگ بھڑکانے کا نہیں، بلکہ اسے روکنے کا فن بن جاتی ہے۔
جہاں تک عرب زاویے اور بالخصوص سعودی زاویے کا تعلق ہے تو اسے صف بندی کے شور میں نہیں بلکہ خاموش تموضع میں پڑھا جانا چاہیے۔
جو ریاستیں تاریخ کو سمجھتی ہیں، وہ جلدی میں کسی طرف نہیں جھکتیں بلکہ استحکام میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، شراکت داریوں کو متنوع بناتی ہیں اور اپنے اندر کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔
ایسی دنیا میں جہاں مسلّمات تحلیل ہو رہی ہوں، توازن خود ایک طاقت بن جاتا ہے اور شدید استقطاب سے بچنے کی صلاحیت ذہین خودمختاری کی ایک صورت بن جاتی ہے۔
اور جیسا کہ ابن خلدون نے کہا ’جب احوال یکسر بدل جائیں تو گویا مخلوق ہی اپنی اصل سے بدل جاتی ہے‘۔
اس مرحلے میں اصل خطرہ جنگ کا بھڑک اٹھنا نہیں بلکہ جنگ کے تصور کا معمول بن جانا ہے۔
جب روزمرہ کے تنازعات سرسری خبر بن جائیں، پابندیاں گولیوں کا متبادل ٹھہر جائیں اور قتلِ عام خبری پٹی میں محض اعداد بن جائیں تو سمجھ لیجیے ہم اعلان کے بغیر جنگ میں داخل ہو چکے ہیں۔
تیسری عالمی جنگ شاید کسی سرکاری بیان سے شروع نہ ہو بلکہ دنیا کے تناؤ کو سنبھالتے سنبھالتے تھک جانے سے شروع ہو۔
ہم اس سوال کے سامنے نہیں کہ: کیا جنگ ہوگی؟
بلکہ اس سے کہیں گہرے سوال کے سامنے ہیں: اسے کیسے چلایا جائے گا؟ کن اوزاروں سے؟ اور کس زمین پر؟
تاریخ خود کو دہراتی نہیں مگر جیسا کہ مارک ٹوین نے کہا ’وہ قافیہ ضرور باندھتی ہے‘۔
اور اس بار یہ قافیہ نعروں کی نہیں، مفادات کی زبان میں لکھا جا رہا ہے قانون کی نہیں، طاقت کی منطق سے۔
یہ وہ جنگ ہے جو اس وقت شروع ہوئی جب دنیا اتفاق پر قادر نہ رہی اور عدمِ اتفاق کے ساتھ جینا سیکھ لیا…
اور جو آنے والا ہے، اگر عقل سے کام نہ لیا گیا تو شاید ہمیں تجزیے کی مہلت بھی نہ دے۔