امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کو 18 روز ہو گئے ہیں، جبکہ اس دوران تہران کی جانب سے خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق سعودی عرب نے ایرانی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے خلیجی ریاستوں کے ساتھ سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں۔
ریاض حکومت کا مؤقف ہے کہ خلیج کی سلامتی کو ہرصورت یقینی بنایا جائے گا۔
اس سلسلے میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ٹیلی فونک رابطہ کیا،
جس میں خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
دونوں رہنماؤں نے ایرانی حملوں کو علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بھی امارات، کویت، قطر، بحرین اور عمان کے وزرائے خارجہ سے بھی مشاورت کی ہے۔
ان رابطوں کا مقصد توانائی کی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے ایرانی حملوں کے تناظر میں مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا اور کشیدگی کم کرنا ہے۔
اُدھر انڈیا، فرانس، پاکستان اور جاپان کے وزرائے خارجہ نے بھی سعودی ہم منصب سے رابطہ کر کے خطے میں امن و استحکام پر بات چیت کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک تہران کی اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں تاکہ خطے کو بڑی جنگ سے بچایا جا سکے۔
واضح رہے کہ ایران کا یہ دعویٰ کہ وہ صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے، زمینی حقائق کے برعکس ہے۔
ایرانی حملوں سے خلیجی ممالک کے ہوٹلوں، ہوائی اڈوں اور آئل فیلڈز کو نقصان پہنچا ہے، جو بین الاقوامی قوانین اور علاقائی سلامتی کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کا موجودہ رویہ اسے خود سب سے زیادہ نقصان پہنچائے گا۔ ریاض نے واضح کیا کہ شہری تنصیبات اور گیس فیلڈز پر حملے ناقابل قبول ہیں اور اس سے مستقبل میں سفارتی تعلقات پر گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوں گے۔