اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

جدہ کی مسجدِ عثمان بن عفان: 1300 سالہ اسلامی تاریخ کی زندہ مثال

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: واس)

تاریخی جدہ کی مسجد عثمان بن عفان اسلامی فن تعمیر کے ارتقا کی ایک زندہ مثال ہے۔

مزید پڑھیں

پہلی صدی ہجری (654 عیسوی) میں تعمیر کی گئی یہ مسجد اپنے 1300 سالہ طویل سفر میں اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار کی عکاس ہے۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی تحقیق کے مطابق اس مسجد کی بنیادیں پہلی صدی ہجری سے ملتی ہیں۔

اس کے محراب کے قریب سے ملنے والے آبنوس کی لکڑی کے ستونوں کی سائنسی جانچ سے اس کے قدیم ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جو اس مقام 

کی مذہبی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

کھدائی کے دوران یہاں اموی، عباسی، فاطمی، ایوبی اور مملوکی ادوار کی تہ در تہ تعمیراتی باقیات ملی ہیں۔ 

یہ مسجد اپنے روایتی صحن اور چھت دار ہال کے ساتھ صدیوں تک فعال رہی، جس سے اسلامی فن تعمیر کے ارتقائی مراحل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیق سے 800 سال پرانے ایک جدید آبی نظام کا بھی انکشاف ہوا ہے، جو اس دور کی انجینئرنگ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مقامی مرجانی پتھر اور لکڑی سے تعمیر شدہ یہ مسجد جدہ کے ساحلی طرزِ تعمیر کی ایک بہترین نمائندگی کرتی ہے۔

برلن کے آثار قدیمہ انسٹی ٹیوٹ کی لیب میں ہونے والی جانچ سے ثابت ہوا کہ مسجد میں موجود آبنوس کے ستون سری لنکا سے لائے گئے تھے۔ 

یہ دریافت اس دور میں جدہ کے وسیع تر تجارتی اور بحری تعلقات کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

مسجد سے ملنے والے چینی مٹی کے برتن اور دیگر نوادرات ساتویں صدی سے اکیسویں صدی تک کے تاریخی تسلسل کو ظاہر کرتے ہیں۔ 

خلیفہ عثمان بن عفان کے حکم پر جدہ کو مرکزی بندرگاہ بنانے کا فیصلہ اس شہر کی تزویراتی اہمیت کا اہم سنگ میل تھا۔

یہ تاریخی مسجد آج جدہ کے ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہے، جو سیاحوں کو اسلامی تاریخ کے گہرے مطالعے کا موقع فراہم کرتی ہے۔