تاریخی جدہ نے رمضان کے تیسرے ہفتے کے دوران 30 لاکھ سے زائد زائرین کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق زائرین کی یہ بڑی تعداد ثقافتی و روایتی سرگرمیوں اور حجازی شناخت کو اجاگر کرنے والے پروگراموں کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
رمضان کے دوران سیاحوں نے یہاں قدیم عمارتوں، تاریخی گلیوں اور روایتی بازاروں کی سیر کے ساتھ ساتھ مساجد اور آثار قدیمہ کے مقامات کا دورہ کیا۔
اس دوران منعقدہ ثقافتی تقریبات، فن پاروں کی نمائش اور خاندانی سرگرمیوں نے زائرین کو حجازی ورثے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
جدہ کے تاریخی مقامات میں قائم عجائب گھروں اور تخلیقی مراکز نے سیاحوں کو مقامی دستکاریوں اور ثقافتی تنوع سے روشناس کرایا ہے۔
رمضان کے آخری ایام میں بھی یہاں کے بازاروں، کیفے اور ریستورانوں میں زائرین کا رش برقرار ہے جو اس علاقے کی بڑھتی مقبولیت ظاہر کرتا ہے۔
وزارت ثقافت کی جانب سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل اس علاقے کو زندہ رکھنے کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔
یہ اقدامات سعودی وژن 2030 کے تحت تاریخی مقامات کو سیاحت، علم اور تخلیقی معیشت کے مراکز میں تبدیل کرنے کے عزم کا حصہ ہیں۔