اہم خبریں
17 March, 2026
--:--:--

جنگ کا 17 واں دن: آبنائے ہرمز بحران نے عالمی منڈیوں کو ہلا دیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
فوٹو: اخبار 24

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اپنے 17 ویں دن میں داخل ہو گئی ہے، جس کے دوران باہمی فوجی کارروائیوں میں اضافہ اور علاقائی و عالمی سطح پر تیزی سے اثرات سامنے آرہے ہیں۔ 

اس دوران آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش عالمی منظرنامے کا سب سے بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔

حالیہ گھنٹوں میں ایران کی جانب سے امریکی طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford (CVN-78) کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں سامنے آئی ہیں جبکہ اسرائیل نے بھی اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ 

اس کے ساتھ ہی خلیجی ممالک اور عالمی توانائی منڈیوں تک سکیورٹی اور معاشی اثرات پھیلنے لگے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اتحاد بنانے پر زور دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں

اخبار 24 کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش جنگ کے اثرات میں سب سے خطرناک پیش رفت سمجھی جا رہی ہے کیونکہ یہ سمندری راستہ عالمی توانائی کی تقریباً 20 فیصد سپلائی کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر حملوں کے بعد سے یہ راستہ زیادہ تر تیل بردار جہازوں کے لیے عملی طور پر بند ہو چکا ہے، اگرچہ چند جہاز محدود پیمانے پر گزر رہے ہیں۔

اس صورت حال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں شدید بے چینی پیدا ہوئی، اور پیر کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت 104.50 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔

جہاز رانی کے تحفظ کے لیے اتحاد کی کوشش

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی حفاظت کی ذمہ داری میں حصہ لیں۔

انہوں نے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واشنگٹن نے پہلے ہی 7 ممالک سے رابطہ کیا ہے تاکہ اہم سمندری راستے کی حفاظت کے لیے مشترکہ اقدام کیا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ جلد ایک بین الاقوامی بحری اتحاد کے قیام کا اعلان بھی کر سکتی ہے۔

جاپان اور آسٹریلیا کا انکار

امریکی دباؤ کے باوجود جاپان اور آسٹریلیا نے واضح کیا ہے کہ وہ فی الحال مشرقِ وسطیٰ میں جنگی بحری جہاز بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

جاپان کی وزیر اعظم نے کہا کہ ٹوکیو نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا، کیونکہ ملک کا آئین جنگ سے اجتناب پر زور دیتا ہے۔ 

آسٹریلوی حکومت نے بھی کہا کہ اسے ابھی تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔

چین اور یورپ پر امریکی دباؤ

امریکی صدر نے چین اور یورپی ممالک پر بھی دباؤ ڈالا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی میں کردار ادا کریں، کیونکہ چین خلیجی تیل کا بڑا خریدار ہے۔

چین نے جواب میں کہا کہ وہ تمام فریقوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین مشرقِ وسطیٰ میں اپنے بحری مشن کو مضبوط بنانے پر غور کر رہا ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔

ایرانی دھمکی اور اسرائیلی کارروائی

ایران نے جنگ کے 17 ویں دن اپنی عسکری زبان مزید سخت کر دی ہے۔ 

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے کہا کہ امریکی طیارہ بردار جہاز Gerald Ford کو سہولت فراہم کرنے والے تمام مراکز کو جائز فوجی ہدف سمجھا جائے گا۔

ادھر اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے مہرآباد میں ایک طیارہ تباہ کر دیا جو ایرانی اعلیٰ قیادت سے منسلک تھا اور ماضی میں ایران کے رہنما علی خامنہ ای کے زیر استعمال رہا تھا۔

تہران میں دھماکے

جنگ کے اثرات خلیجی ممالک تک بھی پہنچ گئے ہیں۔
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے سے ایندھن کے ٹینک میں آگ لگ گئی۔

اسی طرح ابوظبی میں الباہیہ کے علاقے میں ایک راکٹ گرنے سے ایک فلسطینی شہری ہلاک ہو گیا، جبکہ فجیرہ بندرگاہ میں ڈرون حملے کے بعد آئل لوڈنگ عارضی طور پر روک دی گئی۔

جنوبی لبنان میں اسرائیلی زمینی کارروائی

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کے خلاف محدود زمینی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

دوا کی سپلائی بھی متاثر

جنگ کے اثرات عالمی سپلائی چین تک پہنچ گئے ہیں۔ 

مشرقِ وسطیٰ کے کئی حصوں میں فضائی حدود بند ہونے سے عالمی پروازیں متاثر ہوئیں جبکہ ادویات بنانے والی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ کینسر کی دواؤں کی ترسیل میں بھی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

سفارتی راستہ تعطل کا شکار

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ، ایران سے رابطے میں ہے لیکن انہیں شک ہے کہ ایرانی حکومت جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تاہم واضح کیا کہ ایران نے نہ جنگ بندی کی درخواست کی ہے اور نہ مذاکرات کی اور وہ طویل جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔

کشیدگی میں مزید اضافہ

یوں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اس کے فوجی، اقتصادی اور سیاسی اثرات عالمی سطح پر پھیل رہے ہیں۔ 

آبنائے ہرمز بدستور اس تنازع کا مرکزی نقطہ بنی ہوئی ہے اور موجودہ حالات مزید کشیدگی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔