امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اب پندرھویں روز میں داخل ہو چکی ہے، جس کے ساتھ ساتھ خطے میں کشیدگی بھی مزید شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
تازہ صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارک کو نشانہ بنانے کے اعلان نے اس بحران کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی برادری پہلے ہی اس جنگ کے معاشی اور سیکیورٹی اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے بحری کارروائیوں کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں
ایران کے جزیرہ خارک پر امریکی حملوں کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے بند نہ کیے تو امریکا جزیرہ خارک پر موجود ایرانی تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ جزیرہ خارک ایرانی تیل برآمدات کا سب سے بڑا مرکز ہے اور اندازوں کے مطابق ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات یہیں سے ہوتی ہیں۔
یہ جزیرہ آبنائے ہرمز سے تقریباً 500 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔
ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے جزیرے پر واقع فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، تاہم تیل کی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے مزید خبردار کیا کہ اگر ایران یا کوئی اور فریق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی میں مداخلت کرے گا تو امریکا اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کر سکتا ہے اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کی سخت وارننگ: توانائی تنصیبات پر حملے کا جواب
امریکی دھمکی کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ایران کے اندر موجود تیل یا توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا براہ راست جواب دیا جائے گا۔
ایرانی فوج کے مطابق ایسی صورت میں خطے میں موجود ان توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو امریکی اتحادی کمپنیوں یا ممالک سے وابستہ ہوں۔
یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ اب صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے بھی اس کا ہدف بن سکتے ہیں، جس سے عالمی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ایران کے شکست کے قریب ہونے کا امریکی دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور بیان میں کہا کہ ایران مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے اور اب وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر ٹرمپ نے لکھا کہ بعض میڈیا ادارے امریکی فوج کی کامیابیوں کو نظر انداز کر رہے ہیں، حالانکہ ایران جنگ میں شکست کھا چکا ہے اور مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی معاہدہ ہوگا بھی تو وہ ایسا معاہدہ نہیں ہوگا جسے وہ آسانی سے قبول کر لیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی معلومات پر انعام
جنگ کے اس مرحلے میں امریکا نے ایران کی قیادت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک اور قدم بھی اٹھایا ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے شخص کو 10 ملین ڈالر تک انعام دیا جائے گا۔
اسی اعلان میں ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی اور دیگر اہم شخصیات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر بھی انعام کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہ اقدام اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ واشنگٹن ایرانی قیادت پر براہ راست دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
بغداد میں امریکی سفارت خانے پر راکٹ حملہ
جنگی حالات کے دوران عراق بھی اس تنازع کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
حملے کے بعد سفارت خانے کے کمپاؤنڈ سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک راکٹ سفارت خانے کے اندر موجود ہیلی کاپٹر لینڈنگ ایریا کے قریب آ کر گرا۔
اگرچہ حملے کے نتیجے میں جانی نقصان کی فوری اطلاع نہیں ملی، تاہم اس واقعے نے جنگ کے دائرہ کار کے مزید پھیلنے کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے محاذ پر کشیدگی
دوسری جانب اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر بھی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے ساتھ مل کر اسرائیل کے اندر کئی اہداف پر حملے کیے ہیں۔
اس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر حزب اللہ نے طبی مراکز اور ایمبولینسوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بند نہ کیا تو انہیں بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک طبی مرکز کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 12 طبی کارکن ہلاک ہو گئے۔
مرنے والوں میں ڈاکٹرز، نرسیں اور طبی امدادی کارکن شامل تھے۔
توانائی، معیشت اور سلامتی پر بڑھتے خدشات
جنگ کے اس مرحلے میں سب سے بڑی تشویش عالمی توانائی کی فراہمی اور معاشی استحکام کے حوالے سے سامنے آ رہی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر یہاں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
اسی خدشے کے پیش نظر امریکی بحریہ نے تیل بردار جہازوں کو حفاظتی اسکواڈ فراہم کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے تاکہ جہاز رانی کے اہم راستے محفوظ رکھے جا سکیں۔
خطے میں جنگ کے پھیلنے کا خدشہ
15 دن گزرنے کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ یہ جنگ صرف امریکا اور ایران کے درمیان محدود نہیں رہی۔
عراق، لبنان، اسرائیل اور خلیجی خطہ بھی اس کے اثرات سے متاثر ہو رہے ہیں۔ توانائی کے مراکز، سفارتی مشنز اور بحری راستے سب اس کشیدگی کے دائرے میں آ چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو یہ تنازع مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت دونوں پر طویل عرصے تک محسوس کیے جائیں گے۔