عید الفطر کی آمد قریب آتے ہی دارالحکومت ریاض کی مارکیٹوں میں خریداری کی سرگرمیاں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں، جہاں لوگ عید کے لیے خاص طور پر نئے لباس اور عطور خریدنے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ منظر عکاسی کرتا ہے کہ عید کے موقع پر بہترین لباس پہننا اور خوشبو لگانا سنتِ نبویؐ سے ماخوذ ایک پسندیدہ عمل ہے۔
ریاض کی مختلف مارکیٹوں میں خریدار نئے لباس خریدنے، مشالح منتخب کرنے یا پرانے مشالح کی تجدید کروانے کے ساتھ ساتھ عود، بخور اور دیگر خوشبوئیں بھی خرید رہے ہیں جو سعودی معاشرے میں عید کے موقع پر خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
جوں جوں عید قریب آتی جا رہی ہے، مارکیٹوں میں خریداری کی رفتار اور رش مزید بڑھتا جا رہا ہے۔
عید کی صبح کے لیے سفید لباس کو سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے کیونکہ یہ سادگی، پاکیزگی اور خوبصورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اس لباس کے ساتھ عموماً شماغ یا غترہ پہنا جاتا ہے جبکہ مشلح سعودی روایتی لباس کا اہم حصہ ہے جو خاص مواقع پر پہنا جاتا ہے اور ثقافتی شناخت اور سماجی روایت کی نمائندگی کرتا ہے۔
اس دوران درزیوں کی دکانوں پر بھی خاصا دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے کیونکہ بہت سے لوگ عید سے پہلے نئے لباس سلوانے یا تیار کروانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی طرح عطور اور بخور کی دکانوں پر بھی گہماگہمی ہے جہاں لوگ خاص طور پر مشرقی خوشبوئیں اور عود کے مختلف اقسام خریدنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ عید کی صبح لوگ غسل کرکے خوشبو لگاتے ہیں اور اپنے بہترین کپڑے پہن کر عید کی نماز ادا کرنے کے لیے مساجد و عیدگاہوں کا رخ کرتے ہیں۔
اس موقع پر فضا تکبیر اور تہلیل کی آوازوں سے گونج اٹھتی ہے اور نمازی صبح سویرے بڑی تعداد میں نماز کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
نماز کے بعد لوگ ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں اور اپنے رشتہ داروں اور بزرگوں سے ملاقات کے لیے جاتے ہیں۔
یہ روایت خاندانی تعلقات کو مضبوط بنانے اور معاشرتی روابط کو فروغ دینے کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
اس طرح سے عید کی تیاریوں میں کپڑوں، مشالح اور عطور کی خریداری سعودی معاشرے میں خوشی اور شکرگزاری کے اظہار کا ایک نمایاں حصہ بن چکی ہے۔