امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ویڈیو کلپ شیئر کی ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس میں امریکی مرکزی کمان CENTCOM کی جانب سے خلیجِ عرب میں واقع ایرانی جزیرے خارگ کے فوجی مقامات پر کی گئی فضائی کارروائی دکھائی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ کارروائی چند لمحے پہلے ان کی براہِ راست ہدایت پر کی گئی اور اسے انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کی طاقتور ترین بمباری کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
ان کے مطابق اس حملے میں جزیرے پر موجود تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جسے انہوں نے ایران کے ’تاج کا گوہر‘ قرار دیا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ اس آپریشن میں استعمال ہونے والے ہتھیار دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور اور جدید ہتھیاروں میں شمار ہوتے ہیں تاہم انہوں نے ’انسانی وجوہ‘ کی بنا پر فی الحال جزیرے کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو یہ فیصلہ تبدیل ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران یا کوئی اور فریق اس اہم آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آزاد اور محفوظ آمدورفت میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے گا تو وہ فوری طور پر اپنے موقف پر نظرثانی کریں گے۔
ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کے پاس ’دنیا کی سب سے طاقتور اور مہلک فوجی قوت‘ موجود ہے، اور ان کے بقول ایران کسی بھی ایسے ہدف کا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جسے واشنگٹن نشانہ بنانا چاہے۔
انہوں نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر کہا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا” اور ایرانی فوج اور تہران کی حکومت سے وابستہ عناصر سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔
ٹرمپ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں فضائی حملے کے مناظر دکھائے گئے ہیں، جن میں نگرانی کے کیمرے کی فوٹیج کے بعد جزیرے کے اندر موجود ہدف پر ایک بڑا دھماکہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
جزیرہ خارگ ایران کے اہم ترین تیل مراکز میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے ہوتی ہیں۔
یہاں خام تیل کی برآمد کے بڑے مراکز موجود ہیں اور یہ خلیجِ عرب کے شمال میں عالمی بحری گزرگاہوں کے قریب واقع ہے۔
ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے، جہاں تجزیہ کار خلیج میں جہاز رانی کے تحفظ اور اس کے خطے میں تیل کی رسد کے استحکام پر ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔