اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

مملکت کا فضائی دفاعی نظام: ایرانی جارحیت کے خلاف بڑی مزاحمتی قوت

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کا فضائی دفاعی نظام ایک اہم حفاظتی ڈھال کے طور پر سامنے آیا ہے۔

مزید پڑھیں

حالیہ دنوں میں ایرانی حملوں کے خدشات کے تناظر میں سعودی دفاعی نظام نے ملک کے مختلف علاقوں میں درجنوں ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنا کر اپنی عملی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

رپورٹس کے مطابق سعودی فضائی دفاع نے چند ہی دنوں کے اندر 50 سے زائد ڈرون اور کئی میزائلوں کو تباہ کیا ہے۔

ایران کی جانب سے یہ کارروائیاں مملکت کے مختلف حصوں کو ہدف 

بنا کر کی گئیں جن کا مقصد اہم تنصیبات، شہری علاقوں اور فوجی مراکز کو نشانہ بنانا تھا۔

سعودی فضائی دفاعی نظام اس وقت ملک کے حساس مقامات، بنیادی تنصیبات اور عسکری ڈھانچے کے تحفظ کے لیے ایک مؤثر دفاعی قوت کے طور پر کام کر رہا ہے اور اسے ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کے خلاف ایک مضبوط قوت بھی سمجھا جاتا ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں

سعودی فضائی دفاع کی مشترکہ حکمت عملی

saudi air defence system 1
(فوٹو: انٹرنیٹ)

سعودی فضائی دفاع صرف ایک الگ فوجی شاخ نہیں بلکہ یہ فضائیہ اور دیگر مسلح افواج کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ اس مشترکہ نظام کا مقصد مملکت کے استحکام، اقتصادی وسائل اور قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

سعودی عرب نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں ایک ایسا جدید فضائی دفاعی نظام تشکیل دیا ہے جو تیز ردعمل، فوری فیصلہ سازی اور مؤثر دفاعی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ نظام بیرونی خطرات کے خلاف ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مسلح افواج کی دیگر شاخوں کے ساتھ مربوط انداز میں کام کرتا ہے۔

دفاعی نظام کی دہائیوں پر مشتمل تعمیر

عرب ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عسکری ماہر فیصل الحمد نے کہا کہ سعودی عرب نے کئی دہائیوں کے دوران اپنے فضائی دفاعی نظام کو مرحلہ وار تعمیر کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مملکت نے مسلسل جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنے اور دفاعی نظام کو اپ گریڈ کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج سعودی فضائی دفاع عالمی معیار کے مطابق جدید اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا حامل نظام بن چکا ہے۔

فیصل الحمد نے وضاحت کی کہ اس دفاعی نظام میں مختلف فاصلے اور بلندیوں پر کام کرنے والے کئی جدید سسٹمز شامل ہیں۔

ان میں طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والا ’تھاڈ‘(THAAD) نظام، درمیانی فاصلے کے لیے ’پیٹریاٹ‘(Patriot) سسٹم اور کم فاصلے کے جدید دفاعی نظام شامل ہیں۔

یہ تمام سسٹمز مل کر ایک ایسی دفاعی چھتری تشکیل دیتے ہیں جو مختلف اقسام کے فضائی اور میزائل خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

saudi air defence system 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

سعودی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی مقصد

فیصل الحمد کے مطابق سعودی عرب اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کا عمل اس ذمہ داری کے تحت جاری رکھے ہوئے ہے کہ وہ اپنے شہریوں، رہائشیوں اور قومی مفادات کا تحفظ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ فضائی دفاع میں سرمایہ کاری مملکت کی قومی سلامتی اور استحکام کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس سے نہ صرف دفاعی طاقت مضبوط ہوتی ہے بلکہ ملک کے سیکیورٹی ماحول پر اعتماد بھی بڑھتا ہے۔

وژن 2030 اور دفاعی صنعت کا فروغ

سعودی عرب نے اپنی طویل المدتی حکمت عملی میں دفاعی صنعت کو بھی اہم مقام دیا ہے۔

وژن 2030 کے تحت مملکت دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی سطح پر تربیت اور دیکھ بھال کے نظام کو فروغ دینے پر کام کر رہی ہے۔

اس پالیسی کا مقصد دفاعی نظام کی پائیداری کو یقینی بنانا، تکنیکی تیاری کو بہتر بنانا اور ایک مضبوط قومی دفاعی صنعتی بنیاد قائم کرنا ہے۔

یہ حکمت عملی نہ صرف فوجی تیاری کو بہتر بناتی ہے بلکہ مقامی سطح پر دفاعی صنعت کے فروغ کے ذریعے معیشت کو بھی تقویت دیتی ہے۔

دفاعی تصور میں تبدیلی

saudi air defence system 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

فیصل الحمد کے مطابق جدید دفاعی صلاحیتوں کے حصول نے سعودی عرب کے دفاعی تصور میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔

ماضی میں دفاعی حکمت عملی کا مقصد صرف حملوں کے اثرات کو کم کرنا اور نقصانات کو محدود رکھنا تھا، تاہم اب حکمت عملی کا محور بھرپور طاقت پیدا کرنا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا دفاعی نظام قائم کیا جائے جس کی موجودگی ہی ممکنہ دشمن کو حملے سے پہلے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دے کیونکہ ایسے حملے کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے اور کامیابی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

اسٹریٹیجک میزائل فورس

سعودی عرب کی دفاعی حکمت عملی میں اسٹریٹیجک میزائل فورس بھی ایک مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ فورس مملکت کے علاقوں اور قومی مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری ادا کرتی ہے۔

ابتدائی دور میں اس پروگرام کو ’صقر‘ منصوبہ کہا جاتا تھا جو بانی مملکت شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن کے نام سے منسوب تھا۔ بعد ازاں اسے باقاعدہ طور پر اسٹریٹیجک میزائل فورس کا نام دیا گیا۔

یہ فورس سعودی دفاعی حکمت عملی کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جاتی ہے اور دیگر عسکری شاخوں کے ساتھ مل کر امن برقرار رکھنے اور دشمن کو باز رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے۔

ریڈار اور کمانڈ سینٹرز پر مشتمل دفاعی نیٹ ورک

سعودی فضائی دفاعی نظام دراصل ایک جامع نیٹ ورک پر مشتمل ہے جس میں ابتدائی انتباہی ریڈار، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور مختلف بلندیوں پر کام کرنے والی انٹرسیپٹر یونٹس شامل ہیں۔

یہ مربوط نظام کسی بھی ممکنہ دراندازی کے امکانات کو کم کرتا ہے اور بیک وقت کئی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

یمن جنگ کے دوران عملی کارکردگی

سعودی فضائی دفاعی نظام نے اپنی عملی کارکردگی خاص طور پر یمن جنگ کے دوران ثابت کی۔ اس عرصے میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کو بار بار ناکام بنایا گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015 سے لے کر 2021 کے آخر تک سعودی دفاعی نظام نے حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے 430 سے زائد بیلسٹک میزائل اور تقریباً 851 ڈرون تباہ کیے۔

ان مسلسل کارروائیوں نے دفاعی عملے کی تیاری، ابتدائی انتباہی صلاحیت اور نیٹ ورک رابطہ کاری کو مزید بہتر بنایا۔

’تھاڈ‘ نظام: بلند فضائی دفاع کی جدید ٹیکنالوجی

سعودی فضائی دفاعی نظام کے اہم ترین حصوں میں ’تھاڈ‘ (THAAD) نظام شامل ہے جو بلند فضائی سطح پر میزائلوں کو روکنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ نظام جولائی 2025 میں باقاعدہ طور پر رائل سعودی ایئر ڈیفنس فورس کے پہلے یونٹ کے قیام کے ساتھ فعال ہوا۔ اس سے پہلے سعودی عملے نے مختلف مراحل کے ٹیسٹ، معائنے اور فیلڈ ٹریننگ مکمل کی تھی۔

اگست میں سعودی فوج نے اعلان کیا کہ اس جدید میزائل دفاعی نظام کی تیسری کمپنی نے اپنی تربیت مکمل کر لی ہے۔ اس کے اہلکاروں نے امریکا کی ریاست ٹیکساس کے شہر ایل پاسو میں واقع فورٹ بلس فوجی اڈے پر خصوصی تربیت حاصل کی۔

یہ تربیت اس منصوبے کا حصہ تھی جس کے ذریعے اس نظام کے آپریشن اور دیکھ بھال کے لیے سعودی عملے کو مکمل طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔

مقامی دفاعی صنعت کی ترقی

تھاڈ پروگرام کے تحت سعودی عرب نے دفاعی صنعت کو مقامی سطح پر فروغ دینے کے اقدامات بھی شروع کیے ہیں۔

مئی میں امریکی کمپنی لوکہیڈ مارٹن نے اعلان کیا کہ مملکت میں عرب انٹرنیشنل کمپنی فار اسٹیل اسٹرکچرز کے تعاون سے لانچنگ پلیٹ فارم کے اجزاء کی پہلی کھیپ تیار کی گئی ہے۔

یہ اقدام اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت سعودی عرب دفاعی آلات کی درآمد سے آگے بڑھ کر مقامی سپلائی چین اور پیداواری صلاحیت قائم کرنا چاہتا ہے۔

جدید تربیت اور دفاعی تیاری کا نیا مرحلہ

سعودی وزارت دفاع جدید جنگی تقاضوں کے مطابق فوجی تربیت اور پیشہ ورانہ تیاری کو بھی مسلسل بہتر بنا رہی ہے۔

اس کا مقصد فوجی اور تکنیکی تیاری کو اعلیٰ سطح پر لے جانا ہے تاکہ جدید دفاعی نظام مؤثر انداز میں استعمال کیے جا سکیں۔

یہ تمام اقدامات وژن 2030 کے اس ہدف کے مطابق ہیں جس کا مقصد فوجی جدیدیت، تکنیکی خود انحصاری اور قومی دفاعی صنعت کو فروغ دینا ہے۔

خطے میں دفاعی توازن کی نئی شکل

ماہرین کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام اب صرف ایک دفاعی ڈھال نہیں بلکہ ایک مؤثر اور بھرپور قوت بھی بن چکا ہے۔

اس کی موجودگی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرتی ہے اور کسی بھی ممکنہ دشمن کے لیے حملے کا فیصلہ مشکل بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، عسکری تربیت اور صنعتی ترقی کے امتزاج نے سعودی عرب کو خطے کی نمایاں دفاعی قوتوں میں شامل کر دیا ہے۔