اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

سعودی عرب معدنی سرمایہ کاری کے عالمی ٹاپ 10 ممالک میں شامل

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

سعودی عرب نے عالمی معدنی سرمایہ کاری کے اشاریوں میں نمایاں پیش رفت کرتے ہوئے پہلی بار دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں جگہ بنا لی ہے۔

مزید پڑھیں

کینیڈا کے فریزر انسٹیٹیوٹ کے 2025 کے سالانہ مائننگ کمپنیز سروے کے مطابق مملکت معدنی سرمایہ کاری کی کشش کے عالمی انڈیکس میں دسویں نمبر پر پہنچ گئی ہے۔ اس فہرست میں شامل ہونے والا سعودی عرب واحد ایشیائی ملک ہے۔

رپورٹ کے مطابق مملکت نے صرف ایک سال میں 13 درجے ترقی کی اور درجہ بندی میں 14.3 فیصد بہتری آئی۔ 

یہ پیش رفت ایک طویل سفر کا نتیجہ ہے کیونکہ سعودی عرب 2013 میں 104ویں نمبر پر تھا، پھر 2024 میں 23ویں مقام تک پہنچا اور اب عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے لیے نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔

mining 1
(فوٹو: انٹرنیٹ)

2025 کے سروے میں سعودی عرب نے پالیسی اور قانون سازی کے اشاریے میں عالمی چوتھا مقام حاصل کیا اور 94.99 پوائنٹس حاصل کیے، جبکہ جیولوجیکل امکانات کے اشاریے میں 16واں مقام اور 73.33 پوائنٹس حاصل کیے۔

رپورٹ کے مطابق مملکت کی سرمایہ کاری کی مسابقت دو بنیادوں پر قائم ہے۔ وسیع معدنی وسائل اور واضح و مؤثر قانون سازی کا نظام۔

تفصیلی پالیسی اشاریوں میں سعودی عرب نے 3 عالمی معیارات میں پہلا مقام حاصل کیا، جن میں معدنی قوانین کی وضاحت اور انتظامی کارکردگی، ضابطہ جاتی ہم آہنگی اور معدنی ٹیکس نظام شامل ہیں۔

اس بہتری میں نئے معدنی سرمایہ کاری نظام، اسناد کمپنی کے قیام اور ’تعدین‘ پلیٹ فارم کے ذریعے لائسنس کے اجراء کو خودکار بنانے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

mining 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اسی طرح مملکت نے ماحولیاتی قوانین کے استحکام میں دوسرا اور زمین کے حقوق و مقامی کمیونٹیز سے متعلق معاملات میں تیسرا مقام حاصل کیا ہے۔

انفرا اسٹرکچر کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آئی جس میں سڑکوں، توانائی، مواصلات اور پانی کی سہولتوں کی دستیابی شامل ہے۔

وزارت صنعت و معدنی وسائل کے نائب وزیر انجینئر خالد بن صالح المدیفر کے مطابق عالمی ٹاپ 10 میں شمولیت ویژن 2030 کے تحت کان کنی شعبے میں اصلاحات کا واضح ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کے لیے شفافیت بڑھانے، اجازت ناموں کے عمل کو تیز کرنے اور تلاش کے خطرات کم کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ سپلائی چین کو مقامی بنایا جا سکے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

اسی طرح اس شعبے میں سرمایہ کاری کے عملی نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔

2025 میں 61 کان کنی لائسنس جاری کیے گئے جن کی مجموعی سرمایہ کاری 44 ارب سعودی ریال ہے، جبکہ 2024 میں 21 لائسنس جاری ہوئے تھے، اس طرح 221 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

علاوہ ازیں تلاش میں سرگرم کمپنیوں کی تعداد 2020 میں 6 سے بڑھ کر 2024 میں 226 ہو گئی، جبکہ فعال تلاش کے لائسنس 2020 کے 500 سے بڑھ کر 2025 میں 1,108 تک پہنچ گئے۔

mining 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

وزارت صنعت و معدنی وسائل نے حال ہی میں گیارہویں مقابلہ جاتی مرحلہ بھی شروع کیا ہے جس کے تحت ریاض، حائل اور عسیر میں 8 معدنی مقامات پر تلاش کے لائسنس جاری کیے جائیں گے۔

ان علاقوں کا رقبہ 1,878 مربع کلومیٹر ہے اور ان میں سونا، چاندی، تانبا، زنک اور لوہا شامل ہیں۔

ابتدائی تلاش کے مرحلے کے خطرات کم کرنے کے لیے سعودی حکومت نے مائننگ ایکسپلوریشن ایمپاورمنٹ پروگرام کے لیے 2024 سے 2030 تک 685 ملین سعودی ریال مختص کیے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو معاونت فراہم کی جا سکے اور سرمایہ کاری کے فیصلوں کے لیے جیولوجیکل معلومات کا تبادلہ بہتر بنایا جا سکے۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سعودی عرب ویژن 2030 کے تحت کان کنی کے شعبے کو قومی صنعت کا تیسرا بڑا ستون بنانے کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

فریزر انسٹیٹیوٹ کے سروے میں دنیا کے 68 معدنی خطوں اور ممالک کا جائزہ لیا گیا جس میں عالمی کمپنیوں کے 256 اعلیٰ عہدیداروں کی آراء شامل کی گئیں۔