اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

سینٹکام نے فوجی طیارہ عراق میں گرنے کی تصدیق کردی، 4 اہلکار ہلاک

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

عراق کی فضائی حدود میں امریکی فضائیہ کا ایک ایندھن فراہم کرنے والا طیارہ (KC-135) حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔

مزید پڑھیں

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حادثے میں طیارے کے تمام 4 عملے کے ارکان جان کی بازی ہار گئے۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔

اس جنگ میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ خطے کے 

کروڑوں لوگوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہوئی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

اُدھر ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے بیان میں آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سرکاری ٹیلی وژن پر نشر بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران اپنے شہدا کے خون کا بدلہ لینا نہیں بھولے گا۔

سخت گیر دھڑے سے تعلق رکھنے والے اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھے جانے والے مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران اپنی پالیسیوں میں کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہوں نے یہ بیان خود سامنے آ کر کیوں نہیں دیا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں کے آغاز کے بعد پہلی بار پریس کانفرنس کی ہے۔

انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے ایرانی قیادت کو بالواسطہ دھمکی بھی دی اور ایران پر جاری فوجی حملوں کا دفاع کیا۔

نیتن یاہو نے کہا کہ وہ جاری عسکری آپریشن کی تفصیلات بیان نہیں کریں گے تاہم اسرائیل ایسے حالات پیدا کر رہا ہے جو ایرانی حکومت کے خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ ایرانی عوام خود موجودہ حکومت کو ہٹا سکیں گے یا نہیں، لیکن اسرائیل اس عمل میں مدد فراہم کر سکتا ہے اور کر رہا ہے۔