امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کے خلاف جاری امریکی اسرائیلی جنگ کے تناظر میں انٹیلی جنس اداروں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔
مزید پڑھیں
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ اور جنگ عالمی سیاست و معیشت پر اثرانداز ہو رہی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے تازہ اندازوں کے مطابق ایران کی موجودہ حکومت بدستور مستحکم ہے اور اس کے فوری طور پر گرنے یا کمزور ہونے کے واضح آثار سامنے نہیں آئے۔
دوسری جانب امریکی سیاسی ویب سائٹ پولیٹیکو نے توانائی کے شعبے کے ماہرین سے گفتگو کے بعد رپورٹ کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرتے وقت عالمی تیل منڈی پر ممکنہ اثرات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو روکنے کی دھمکیوں کے بعد عالمی منڈی میں بے یقینی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی اور عالمی سپلائی چین پر دباؤ بڑھ گیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے اور اس میں کسی بھی خلل سے عالمی توانائی مارکیٹ شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ موجودہ صورتحال میں امریکی قیادت کے پاس ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے واضح اہداف یا اس کے خاتمے کا کوئی طے شدہ ٹائم فریم موجود نہیں، جس سے اس مہم کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عملی طور پر ایران میں ایسے اہداف بہت کم رہ گئے ہیں جنہیں امریکہ فوجی کارروائی میں نشانہ بنا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جبکہ روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں ایران کے خلاف جنگ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔