وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے خطے میں بڑھتی کشیدگی اور ایرانی حملوں کے تناظر میں مختلف ممالک کے وزرائے دفاع سے ٹیلیفونک رابطے کیے اور موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
مزید پڑھیں
انہوں نے ترکی کے وزیر قومی دفاع یاشار گولر سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب کے خلاف ایرانی جارحیت اور ترکی کو نشانہ بنانے والے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
گفتگو میں موجودہ کشیدگی کے علاقائی اور عالمی سلامتی پر ممکنہ اثرات کا جائزہ بھی لیا گیا۔
دونوں وزرا نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب اور ترکیہ کی سلامتی
و استحکام کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں باہمی یکجہتی برقرار رکھی جائے گی۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے کلک کریں
اسی سلسلے میں شہزادہ خالد بن سلمان نے رومانیہ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر قومی دفاع رادو میروتا سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا۔
اس گفتگو کے دوران سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی اور خطے میں جاری تیزی سے بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ موجودہ کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن اور استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
علاوہ ازیں سعودی وزیر دفاع نے جنوبی کوریا کے وزیر قومی دفاع آن جیو باک سے بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی۔
اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب پر ہونے والے ایرانی حملوں کی مذمت کی اور خطے میں جاری حالات، ان کے ممکنہ اثرات اور علاقائی و عالمی سلامتی پر پڑنے والے اثرات پر گفتگو کی۔
اس تبادلہ خیال میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔