مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی تیل منڈیاں شدید غیر یقینی اور تشویش کی حالت میں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جاری تنازع کے باعث توانائی کے بنیادی ڈھانچے یا تیل کی ترسیل کے راستوں کو بڑا نقصان پہنچا تو خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق معاشی تحقیقی ادارے کیپیٹل اکنامکس نے خبردار کیا ہے کہ بدترین صورتحال میں رواں سال برینٹ خام تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، خاص طور پر اگر مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔
مزید پڑھیں
سبق ویب سائٹ کے مطابق تفتیشی دورے کا مقصد غذائی اشیاء اور زرعی مصنوعات کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق عالمی تیل مارکیٹ کے لیے سب سے اہم خطرہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی صورتحال ہے۔
یہ تنگ سمندری راستہ دنیا کی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم
سمجھا جاتا ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل گزرتا ہے جو عالمی تیل تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ بنتا ہے۔
حالیہ کشیدگی، بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کے باعث اس راستے میں جہاز رانی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہاں تیل کی ترسیل میں بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی تو عالمی منڈی کو فوری جھٹکا لگ سکتا ہے اور قیمتیں تیزی سے اوپر جا سکتی ہیں۔
تیل کی تنصیبات پر حملے
دوسرا اہم عنصر خطے میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے نہ صرف براہ راست پیداوار کو متاثر کرتے ہیں بلکہ حفاظتی اقدامات کے باعث کئی ممالک کو عارضی طور پر پیداوار کم بھی کرنا پڑتی ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہو رہی ہے جب عالمی توانائی کی طلب نسبتاً مستحکم ہے، جس کے باعث سپلائی میں کسی بھی اچانک کمی سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
جمعرات کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے فیوچر معاہدے 5.2 فیصد اضافے کے ساتھ 91.78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ برینٹ خام تیل بدھ کے اختتام پر 91.98 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جو تقریباً 4.8 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
سپلائی میں بڑی کمی
توانائی کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث خلیجی ممالک سے روزانہ تقریباً 15 ملین بیرل تیل اور اس کی مصنوعات عالمی منڈی سے عارضی طور پر باہر ہو چکی ہیں، جس سے توانائی کی عالمی منڈی میں شدید دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔
بحری سلامتی کمپنیوں کے مطابق حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں مزید تین جہازوں پر حملے ہوئے، جس کے بعد خطے میں جنگ کے آغاز کے بعد نشانہ بننے والے جہازوں کی تعداد کم از کم 14 ہو گئی ہے۔
عالمی اقدامات اور متبادل راستے
تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے رکن ممالک کو اپنے ذخائر سے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کی سفارش کی ہے، جو اس کی تاریخ کا سب سے بڑا ممکنہ اقدام ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق ابو ظبی کی سرکاری تیل کمپنی ادنوک نے ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ کے باعث الرویس ریفائنری کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے، جس سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید دھچکا لگا ہے۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق سعودی عرب اپنی برآمدات کو برقرار رکھنے کے لیے بحیرہ احمر کے راستے ینبع بندرگاہ کے ذریعے سپلائی بڑھا رہا ہے، جبکہ عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی اپنی پیداوار میں کمی کر چکے ہیں۔
توانائی کے مشاورتی ادارے وڈ میکنزی کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو عالمی تیل منڈی شدید دباؤ کا شکار رہ سکتی ہے اور قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔