اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

مسجد الحرام کے 257 دروازے: آمد و رفت کے لیے جدید نظام

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
بابِ ملک عبداللہ مسجد الحرام کا بلند ترین اور عظیم الشان دروازہ ہے (فوٹو: واس)

مسجد الحرام کے دروازے حرم کے صحنوں اور راہداریوں میں نظم و نسق اور خدمات کے نمایاں ترین عناصر میں شمار ہوتے ہیں۔

ان میں مرکزی اور ذیلی داخلی راستے شامل ہیں، جیسے بابِ ملک عبدالعزیز کا علاقہ، بابِ ملک فہد کا علاقہ، تیسری سعودی توسیع کا علاقہ اور مسعیٰ کا علاقہ۔

65465456 1
ایک ہزار سے زائد اہلکار مسجد الحرام کے دروازوں پر زائرین کی خدمت میں مصروف ہیں ( فوٹو: واس)

یہ مقامات روزانہ لاکھوں نمازیوں، معتمرین اور زائرین کا استقبال کرتے ہیں جو روئے زمین کے مقدس ترین مقام پر اپنی عبادات ادا کرنے آتے ہیں۔ 

یہ سب ایک مربوط عملی نظام کے تحت انجام پاتا ہے جس کا مقصد آمد و رفت کو آسان بنانا اور زائرین کے آرام و سہولت کو بہتر بنانا ہے۔

مزید پڑھیں

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مسجد الحرام میں تقریباً 257 دروازے ہیں جو مشرقی، مغربی، شمالی اور جنوبی اطراف میں تقسیم ہیں۔ 

یہ دروازے منظم منصوبہ بندی کے تحت کام کرتے ہیں تاکہ داخلے اور اخراج کا نظام رواں اور منظم رہے، خصوصاً ایسے مواقع پر جب زائرین کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے، جیسے کہ ماہِ رمضان المبارک میں۔

مسجد الحرام کے دروازوں پر جدید ڈیجیٹل رہنمائی بورڈز نصب کیے گئے ہیں۔

جب نمازیوں کے داخلے کی گنجائش موجود ہو تو یہ بورڈ سبز رنگ میں روشن ہوتے ہیں، جبکہ گنجائش مکمل ہونے پر سرخ رنگ اختیار کر لیتے ہیں۔

اس نظام سے ہجوم کی نقل و حرکت کو منظم کرنے اور زائرین کو کم رش والے داخلی راستوں کی طرف رہنمائی دینے میں مدد ملتی ہے۔

یہ دروازے وسیع داخلی راستوں اور جدید ترین نظم و رہنمائی کے نظام سے آراستہ ہیں، جو ہجوم کی نقل و حرکت کو آسان بناتے ہیں، خاص طور پر ایسے موسموں میں جب زائرین کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔

8789797 scaled
اس دروازے کا نمبر 100 ہے، اس کی اونچائی 13.3 میٹر اور چوڑائی 7.7 میٹر ہے، جبکہ اس کا وزن تقریباً 14 ٹن ہے (فوٹو: واس)

اس کے علاوہ مختلف زبانوں میں رہنمائی بورڈز بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ زائرین کو مسجد الحرام کے مختلف مقامات جیسے مطاف، مسعیٰ، مردوں اور خواتین کے مصلیٰ اور صحنوں کے خارجی راستوں تک آسانی سے رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

بابِ ملک عبداللہ بن عبدالعزیز مسجد الحرام کے نمایاں اور عظیم دروازوں میں سے ایک ہے۔ 

یہ مسجد الحرام کے دروازوں میں سب سے بلند اور دنیا کے بڑے دروازوں میں شمار ہوتا ہے۔

اس دروازے کا نمبر 100 ہے، اس کی اونچائی 13.3 میٹر اور چوڑائی 7.7 میٹر ہے جبکہ اس کا وزن تقریباً 14 ٹن ہے۔ 

یہ دروازہ تیسری سعودی توسیع کی سمت سے بیت اللہ کا ایک نمایاں مرکزی داخلی راستہ ہے۔

879987897
جب نمازیوں کے داخلے کی گنجائش موجود ہو تو یہ بورڈ سبز رنگ میں روشن ہوتے ہیں (فوٹو: واس)

بابِ ملک عبداللہ جدید طرزِ تعمیر کا شاہکار ہے جو اصالت اور اسلامی نقش و نگار کے فن کو یکجا کرتا ہے۔ 

اس کے اوپر باہر کی جانب تین محرابی ڈھانچے اور اندر کی جانب بھی تین محرابیں ہیں، جن کے اوپر تین بالکونیاں واقع ہیں جو دروازے کے وسط میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ 

اس کے اوپر دو بلند و بالا مینار ہیں جو مسجد الحرام کے دیگر میناروں سے بھی بلند ہیں، جس سے یہ دروازہ ایک منفرد معماری شناخت اور نمایاں مقام حاصل کرتا ہے۔

8789797 1 scaled
مختلف زبانوں میں رہنمائی بورڈز بھی نصب کیے گئے ہیں (فوٹو: واس)

مسجد الحرام میں دروازوں کا انتظام ایک مؤثر نظام کے تحت انجام دیا جاتا ہے، جس کے لیے ایک ہزار سے زائد مرد و خواتین پر مشتمل خصوصی فیلڈ ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ 

یہ ٹیمیں زائرین کی رہنمائی، داخلے اور اخراج کی تنظیم اور نمازیوں کو مسلسل معاونت فراہم کرنے کی خدمات سرانجام دیتی ہیں، تاکہ عبادت گزاروں کے لیے نماز اور مناسک کی ادائیگی کا ماحول امن، سکون اور اطمینان سے بھرپور ہو۔

مسجد الحرام کے دروازے اپنی انجینئرنگ مہارت اور منظم انتظام کے ذریعے ان مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں جو دانشمند قیادت کی جانب سے حرمین شریفین اور ان کے زائرین کی خدمت کے لیے کی جا رہی ہیں، تاکہ عبادات کی ادائیگی ایک منظم، روحانی اور محفوظ ماحول میں ممکن ہو سکے۔