مملکت کے مختلف علاقوں میں پروجیکٹ محمد بن سلمان کے تحت قدیم عبادت گاہوں کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں ریاض کے قریب حوطہ بنی تمیم کی تاریخی ’ مسجد القلعہ’ کو مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ اقدام مملکت کے عظیم الشان ورثے کو محفوظ بنانے اور اسے وژن 2030 کے اہداف کے مطابق نئی نسل کے لیے ایک زندہ مثال بنانے کی قومی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ مسجد، جسے امام ترکی بن عبداللہ قلعہ مسجد بھی کہا جاتا ہے، اس خطے کی مذہبی اور قومی تاریخ کا ایک اہم نشان سمجھی جاتی ہے۔
تاریخی مسجد حوطہ بنی تمیم کے مرکز ’الحلوہ‘ میں واقع ہے اور اس کا
تعلق سعودی ریاستِ ثانیہ کے بانی امام ترکی بن عبداللہ سے ہے۔
اس کی تعمیر 1250 ہجری (بمطابق 1834 عیسوی) میں امام ترکی بن عبداللہ کے قلعے کے اندر کی گئی تھی۔یہی وجہ ہے کہ یہ مسجد سعودی عرب کی سیاسی اور مذہبی تاریخ کے ایک اہم دور کی گواہ بھی ہے۔
اس مسجد کا طرزِ تعمیر نجد کے قدیم روایتی انداز کا نمونہ ہے، جس میں پتھر کی بنیادوں اور مٹی کی دیواروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی تعمیر میں ’العروق‘ (تہوں کی صورت میں مٹی لگانا) اور دھوپ میں خشک کی گئی مٹی کی اینٹوں کا مخصوص طریقہ اپنایا گیا ہے، جو نجد کے قدیم تعمیراتی اسلوب کی پہچان ہے۔
مسجد کی چھت اثل (ایک خود رو درخت) کے تنوں، کھجور کے پتوں اور مٹی سے تیار کی گئی ہے، جو پتھر کے ستونوں پر ٹکی ہوئی ہے۔
2022 میں جب اس مسجد کو ترقیاتی منصوبے میں شامل کیا گیا، تو اس کا رقبہ 608.68 مربع میٹر تھا جو بحالی کے بعد بڑھ کر 625.78 مربع میٹر ہو گیا ہے، تاہم اس میں نمازیوں کی گنجائش (180 افراد) کو برقرار رکھا گیا ہے۔
یہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی اور قدیم تعمیراتی فن کے درمیان ایک بہترین ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے تاکہ عمارت کی پائیداری کے ساتھ ساتھ اس کی تاریخی روح کو بھی محفوظ رکھا جا سکے۔
اس پروجیکٹ کے 4 بنیادی اہداف میں مساجد کو عبادت کے لیے تیار کرنا، ان کی تعمیراتی اصلیت کو بحال کرنا، مملکت کے تہذیبی پہلو کو نمایاں کرنا اور ان کی مذہبی حیثیت کو مستحکم کرنا شامل ہے۔
بحالی کا یہ تمام کام سعودی کمپنیوں اور ماہر سعودی انجینئروں کی زیرِ نگرانی مکمل کیا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مسجد کی شناخت میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔
مسجد القلعہ کی بحالی نہ صرف ایک عبادت گاہ کی مرمت ہے بلکہ یہ سعودی عرب کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ اپنے اسلامی اور قومی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثے کے طور پر محفوظ رکھے گا۔