اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

ولی عہد کی زیرِقیادت مملکت ڈیٹا اور اے آئی کا عالمی مرکز بننے کیلیے پرعزم

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

سعودی عرب اپنے ویژن 2030 کے تحت ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔

مزید پڑھیں

اس کامیابی کی بنیاد خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی سرپرستی اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی براہِ راست دلچسپی سے رکھی گئی ہے۔

اس وژن کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کو قومی تبدیلی کا بنیادی ستون بنانا ہے تاکہ مملکت کی عالمی مسابقت کو مستحکم کیا جا سکے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے 2019 میں سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل 

انٹیلی جنس اتھارٹی ’سداياُ کا قیام عمل میں لایا گیا، جو اس شعبے میں ایک مستند حکومتی ادارہ ہے، جس نے قومی حکمت عملی ترتیب دے کر مملکت کو علم پر مبنی معیشت کی جانب گامزن کیا ہے۔

یہ قومی حکمت عملی 6 کلیدی جہتوں پر مشتمل ہے جن میں مقاصد، مہارتیں، پالیسیاں اور ضوابط، سرمایہ کاری، تحقیق و جدت اور ایک مربوط نظام شامل ہیں۔

saudi arabia AI artificial intelligence and data technology
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

ان جہتوں نے سعودی عرب کو منصوبہ بندی کے مرحلے سے نکال کر ٹیکنالوجی کو بروئے کار لانے اور اس کے عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔

حکمت عملی کے تحت ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں معیار اور ضوابط وضع کیے گئے، جبکہ قومی سطح پر ماہرین تیار کرنے کے لیے پیشہ ورانہ معیارات اور تعلیمی پروگراموں کا آغاز کیا گیا۔

ان کوششوں کے ثمرات عالمی سطح پر نظر آرہے ہیں، جہاں سعودی عرب 2025 کے عالمی مصنوعی ذہانت کے انڈیکس میں 14 ویں نمبر پر آگیا ہے۔

اس کے علاوہ مملکت او ای سی ڈی (OECD) کے اے آئی پالیسی آبزرویٹری میں تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ سٹینفورڈ یونیورسٹی کے انڈیکس کے مطابق یہ عرب اور علاقائی سطح پر جدید اے آئی ماڈلز تیار کرنے میں سرفہرست ہے۔

سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے لحاظ سے بھی یہ شعبہ غیر معمولی نمو دکھا رہا ہے۔

سال 2024 میں مصنوعی ذہانت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر سرکاری اخراجات میں گزشتہ سال کی نسبت 56.25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

shaheen 3 super computer
(فوٹو: ایکس)

سعودی کمپنیوں نے گزشتہ برس 70 سرمایہ کاری ڈیلز کے ذریعے 9.1 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی، جبکہ اس وقت 664 سے زائد کمپنیاں ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں فعال ہیں۔

اسی طرح تکنیکی انفرا اسٹرکچر میں بھی بڑی پیش رفت ہوئی ہے، جس کے مطابق 2023 سے 2024 کے دوران ڈیٹا مراکز کی گنجائش میں 42.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ جدید ترین ’شاہین 3‘ سپر کمپیوٹر کا قیام، 430 سے زائد حکومتی نظاموں کا نیشنل ڈیٹا لیک میں انضمام اور 2026 کے اوائل میں دنیا کے سب سے بڑے حکومتی ڈیٹا سینٹر ’ہیکساگون‘ کا افتتاح، جس کی گنجائش 480 میگاواٹ ہوگی، مملکت کی تکنیکی استعداد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

انسانی وسائل کی تیاری کے لیے بھی مملکت نے وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، جس کے تحت 11 ہزار سے زائد ماہرین کو تربیت دی گئی ہے ۔ ’سماعی‘ جیسے قومی پروگرام میں 10 لاکھ سے زائد شہری حصہ لے چکے ہیں۔

یہ پروگرامز علمی خلا کو پر کرنے اور قومی صلاحیتوں کو مستقبل کی معیشت کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

مملکت کی خدمات صرف داخلی سطح تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس نے عالمی سطح پر بھی ذمہ دارانہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کردار ادا کیا ہے، جس کی ایک مثال ریاض میں یونیسکو کے تعاون سے ’آئیکیر‘ (ICAIRE) سینٹر کا قیام ہے۔

ان تمام اقدامات اور ’گلوبل پارٹنرشپ آن آرٹیفیشل انٹیلی جنس‘ (GPAI) میں بطور پہلی عرب ریاست شمولیت کے ذریعے سعودی عرب عالمی سطح پر ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو تشکیل دینے میں اپنا ایک منفرد مقام مستحکم کر رہا ہے۔