ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے دوران اسرائیل میں طویل مدتی جنگ کے مضمرات کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق صورت حال کے پیش نظر اعلیٰ سطح کے اسرائیلی حکام اب تنازع کو بڑھنے سے روکنے کے لیے کسی سیاسی راستے یا متبادل حل کی تلاش میں ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فیصلہ سازوں میں یہ فکر بڑھ رہی ہے کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو یہ نہ صرف خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بنے گی
بلکہ عالمی معیشت پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
اسرائیلی عسکری حلقوں کا ماننا ہے کہ امریکہ کے تعاون سے جاری موجودہ فضائی حملوں کی مہم اپنے بنیادی عسکری اہداف کے حصول کے قریب پہنچ چکی ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں
ان اہداف میں ایران کا بقیہ جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے اور اسلحہ سازی کے مراکز کی تباہی کے ساتھ ساتھ ایرانی عسکری اور انٹیلی جنس قیادت کو کمزور کرنا شامل ہے۔
اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ ان اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد عسکری کارروائیوں کا بنیادی مقصد کافی حد تک حاصل ہو جائے گا اور مزید کارروائی کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
تاہم اس پیش رفت کے باوجود اسرائیلی حکام اب ایک ایسے سیاسی حل کی تلاش میں ہیں جس سے جنگ کی بھاری قیمت اور اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ایران کی جانب سے خطے کے مختلف ممالک پر مسلسل جوابی میزائل حملے اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافے نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ جنگ کو مزید کھینچنا خود اسرائیل اور خطے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
عسکری منصوبہ بندی سے واقف ایک اسرائیلی عہدیدار نے وضاحت کی ہے کہ اگرچہ تہران میں حکومت کا خاتمہ ایک مطلوبہ ہدف ضرور ہے، لیکن یہ جنگ کے اختتام کا واحد راستہ نہیں ہے۔
عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل کے لیے اصل کامیابی یہ ہے کہ ایران کی اہم عسکری صلاحیتوں کو تباہ کر دیا جائے۔
اگر ایران باضابطہ طور پر ہتھیار ڈالنے کا اعلان نہیں بھی کرتا، تب بھی ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جہاں امریکہ کی سرپرستی میں کوئی سمجھوتا یا جنگ بندی قبول کر لی جائے۔
رپورٹ کے مطابق ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اسرائیل اپنے عسکری مقاصد کے حصول کے بعد ایک ایسی صورتحال کی طرف دیکھ رہا ہے جہاں وہ فوجی دباؤ کو سیاسی سفارتکاری کے ذریعے جنگ بندی میں تبدیل کر سکے۔