اہم خبریں
18 March, 2026
--:--:--

جنگ کا دسواں روز: تہران پر اسرائیل اور خلیجی ممالک میں ایرانی حملے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب ایک مکمل علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے، جسے پیر کے روز 10 دن مکمل ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں

خطے کی فضاؤں میں جنگی طیاروں کی گونج اور میزائلوں کے شور نے پوری دنیا کو ایک شدید معاشی اور سیکیورٹی بحران میں دھکیل دیا ہے۔

ایک طرف اسرائیل نے تہران اور لبنان میں اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں تو دوسری طرف ایران نے خلیجی ممالک سمیت عراق میں موجود امریکی تنصیبات کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

اس ہنگامی صورتحال کے دوران ایران میں قیادت کی تبدیلی نے سیاسی 

منظر نامے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں

ایران میں قیادت تبدیلی اور اسرائیل حملے

ایران میں سیاسی ہلچل اس وقت عروج پر پہنچی جب مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔

israel attack lebanon
(فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ تقرری اُن کے والد علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کے بعد ہوئی ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای جو پہلے سے ہی ایرانی سیکیورٹی اداروں میں گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اب ملک کی باگ ڈور سنبھال چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فورسز نے ایران کے دارالحکومت تہران سمیت اصفہان میں پاسدارانِ انقلاب اور بسیج کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیلی حملوں میں میزائل انجن پروڈکشن کی تنصیبات، بیلسٹک میزائل لانچ سائٹس، اور پولیس و پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈ کوارٹرز تباہ کیے گئے ہیں۔

اُدھر لبنان میں بھی اسرائیل نے حزب اللہ کے گڑھ اور مالیاتی ادارے ’القرض الحسن‘ کی تنصیبات پر فضائی حملے کیے ہیں۔

israel attack lebanon iran war 5
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں ان کے 2 فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ حزب اللہ نے مشرقی لبنان میں ایک فضائی آپریشن کو ناکام بنانے اور زمینی جھڑپوں کا دعویٰ کیا ہے۔

خلیجی ممالک پر ایرانی حملے

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کا دائرہ کار خلیجی ریاستوں تک وسیع ہو گیا ہے۔

پیر کی صبح بحرین میں جزیرہ سترة پر ڈرون حملے کے نتیجے میں 32 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

اس حملے کے باعث المعامیر کے علاقے میں ایک تنصیب میں آگ بھی بھڑک اٹھی۔

israel attack lebanon iran war 4
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اسی طرح قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی تصدیق کی گئی ہے، جن کا دفاعی نظاموں نے کامیابی سے جواب دیا۔

علاوہ ازیں عراق میں بھی بغداد اور اربیل کے قریب موجود امریکی سفارتی اور فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جانی نقصان اور عسکری ہلاکتیں

جنگ کے 10 دنوں میں انسانی جانوں کا ضیاع مسلسل بڑھ رہا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ کویت میں ایک اور فوجی کی ہلاکت کے بعد 28 فروری سے اب تک امریکی فوجیوں کی کل تعداد 8 ہو گئی ہے، جبکہ 18 شدید زخمی ہیں۔

ایرانی سفیر برائے اقوامِ متحدہ کا دعویٰ ہے کہ امریکی اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1332 ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی طرح بحری محاذ پر بھی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔

israel attack lebanon iran war 3
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ایرانی فوج کے مطابق گزشتہ ہفتے سری لنکا کے ساحل کے قریب امریکی آبدوز نے ایرانی فریگیٹ ’دینا‘ کو ڈبو دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 104 ایرانی ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔

دریں اثنا اسرائیل کے اندر بھی ایران کی جانب سے فائر کیے گئے میزائلوں کے ٹکڑے لگنے سے ایک 40 سالہ شخص ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا ہے۔

ٹرمپ کا ردِ عمل اور عالمی سفارت کاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ کو ختم کرنے کا فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وہ تمام عوامل کا جائزہ لے کر مناسب وقت پر فیصلہ کریں گے۔

دوسری جانب ترک وزارتِ دفاع نے خبردار کیا ہے کہ ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایرانی بیلسٹک میزائل کو نیٹو کے دفاعی نظام نے مار گرایا ہے۔

israel attack lebanon iran war 2
(فوٹو: انٹرنیٹ)

اس کے علاوہ ترکی نے قبرص میں ایف-16 طیارے تعینات کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اُدھر بھارت نے ایرانی بحری جہازوں کو اپنی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہونے کی اجازت دی ہے، جس میں ایک جہاز کوچی کی بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے۔

عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں شروع ہونے والی جنگ نے عالمی معیشت بالخصوص توانائی کے شعبے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 2022 کے وسط کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس اضافے کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سپلائی میں خلل ہے، جو دنیا بھر میں تیل اور گیس کی 20 فیصد ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

قطر اور عراق میں تیل و گیس کی پیداوار معطل ہونے اور کویت کی جانب سے پیداوار میں کمی کے اعلانات نے عالمی مارکیٹ میں شدید بحران پیدا کر دیا ہے۔

ایران کی جانب سے کم از کم 5 بحری جہازوں پر حملوں کے بعد سمندری راستہ عملی طور پر بند ہو چکا ہے، جس سے عالمی منڈیوں میں مزید عدم استحکام کا خدشہ ہے۔

israel attack lebanon iran war 1
(فوٹو: انٹرنیٹ)