عالمی معیشت کا مرکز بہت تیزی کے ساتھ مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں
آئی ایم ایف کی 2026 کے لیے جاری کردہ تازہ ترین پیشگوئیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ معاشی طاقت کا پیمانہ محض مارکیٹ کے ہندسے نہیں بلکہ قوتِ خرید کے اعداد و شمار ہیں۔
اس نئے معاشی نقشے میں جہاں چین اور امریکہ کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے، وہیں سعودی عرب اور مصر جیسی ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی دنیا کے 20 بڑے اقتصادی مراکز میں اپنا لوہا منوا رہی ہیں۔
عالمی معیشتوں کی نئی ترتیب
اگر 2026 کے معاشی منظر نامے کو دیکھا جائے تو چین 43.49 ٹریلین ڈالر کی قوتِ خرید کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے طور پر براجمان ہے، جبکہ امریکہ 31.82 ٹریلین ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔
فہرست میں تیسرے نمبر پر بھارت ہے جس کی معیشت 19.14 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے بعد روس 7.34 ٹریلین ڈالر کے ساتھ چوتھے اور جاپان 6.92 ٹریلین ڈالر کے ساتھ پانچویں پوزیشن پر موجود ہے۔
عالمی درجہ بندی میں چھٹے نمبر پر جرمنی (6.32 ٹریلین ڈالر) ہے، جس کے بعد انڈونیشیا 5.36 ٹریلین ڈالر کے ساتھ ساتویں اور برازیل 5.16 ٹریلین ڈالر کے ساتھ آٹھویں نمبر پر آتا ہے۔
فہرست میں نواں نمبر فرانس (4.66 ٹریلین ڈالر) کا ہے جبکہ برطانیہ 4.59 ٹریلین ڈالر کے ساتھ دسویں نمبر پر ہے۔
گیارہویں سے پندرہویں نمبر تک کے ممالک پر نظر ڈالی جائے تو ترکی 3.98 ٹریلین، اٹلی 3.82 ٹریلین، میکسیکو 3.55 ٹریلین، جنوبی کوریا 3.49 ٹریلین اور اسپین 2.94 ٹریلین ڈالر کی معیشت کے ساتھ موجود ہیں۔
فہرست کے آخری 5 بڑے اقتصادی مراکز میں سعودی عرب 2.85 ٹریلین ڈالر کے ساتھ 16ویں نمبر پر موجود ہے۔
اسی طرح کینیڈا 2.81 ٹریلین ڈالر کے ساتھ 17ویں نمبر پر، مصر 2.53 ٹریلین ڈالر کے ساتھ 18ویں نمبر پر، نائیجیریا 2.39 ٹریلین ڈالر کے ساتھ 19ویں نمبر پر اور پولینڈ 2.12 ٹریلین ڈالر کے ساتھ 20ویں نمبر پر ہے۔
سعودی عرب اور مصر کی اہمیت
قوت خرید کے پیمانے نے سعودی عرب اور مصر کو عالمی معاشی نقشے پر ایک نمایاں پوزیشن دی ہے۔
سعودی عرب اپنی توانائی کی صنعت کی مضبوطی اور جاری مالیاتی سرپلس کے باعث 16ویں نمبر پر ہے، جبکہ مصر کا 18ویں نمبر پر آنا اس کے وسیع صنعتی ڈھانچے کا ثبوت ہے۔
یہ درجہ بندی واضح کرتی ہے کہ 2026 میں معاشی طاقت کا تعین صرف ڈالر کی مقدار سے نہیں، بلکہ مقامی وسائل اور پیداواری لاگت کی افادیت سے ہو رہا ہے۔