مسجد نبوی شریف میں نصب گنبد اور دیوہیکل چھتریاں جدید معماری کا اہم جزو ہیں، جو جمالیاتی حسن اور عملی سہولت کو یکجا کرتی ہیں۔
یہ اقدام سعودی عرب کی جانب سے مسجد نبوی میں زائرین اور نمازیوں کے لیے آرام دہ ماحول فراہم کرنے کی کاوشوں کا حصہ ہے۔
قباب المسجد النبوي والمظلات العملاقة تحكّم إلكتروني وجمال معماري يحقق الراحة للمصلين والزوار.#واس_رمضان47 pic.twitter.com/ZyqIQsqIhi
— واس جودة الحياة (@SPAqualitylife) March 9, 2026
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق متحرک گنبد اپنی نفیس ڈیزائن اور آرائش کے ذریعے روشنی اور ہوا کو مسجد کی راہداریوں میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔
متحرک گنبد کا قیام سعودی توسیع کے دوران شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دور میں عمل میں آیا، جس کا سنگِ بنیاد 1405 ہجری میں رکھا گیا تھا۔
ان متحرک گنبد کی تعداد 27 ہے، ہر ایک کا وزن تقریباً 80 ٹن ہے اور یہ الیکٹرانک کنٹرول کے ذریعے خودکار طور پر کھلتے اور بند ہوتے ہیں۔
ہر گنبد 18 میٹر مربع کی بنیاد پر حرکت کرتا ہے، جس پر کل 1573 میٹر لمبی لوہے کی ریلیں نصب ہیں۔
ان کا ڈیزائن لکڑی، نیلا فیروز، سیرامک، ریتیلے رنگ اور ترکواز کے امتزاج سے تیار کیا گیا ہے، جو انہیں حرم شریف کے اندر منفرد فن پارے کا درجہ دیتا ہے۔
اسی طرحح مسجد نبوی کے بیرونی صحنوں میں 250 دیوہیکل چھتریاں نصب ہیں، جو خودکار طور پر کھلتی اور بند ہوتی ہیں۔
یہ چھتریاں نمازیوں کو دھوپ اور بارش سے محفوظ رکھتی ہیں اور بیرونی صحن میں سہولت فراہم کر کے مسجد کی گنجائش میں اضافہ کرتی ہیں۔