اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

اپنی سلامتی کے لیے ہر اقدام کا حق رکھتے ہیں: سعودی عرب

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

وزارتِ خارجہ نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ساتھ ساتھ متعدد عرب، اسلامی اور دوست ممالک کے خلاف ایران کی جانب سے کیے گئے مجرمانہ حملوں کی سخت ترین الفاظ میں دوبارہ مذمت کی ہے۔ 

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایسے حملے کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اپنے مکمل حق کو محفوظ رکھتا ہے کہ وہ اپنی سلامتی، خودمختاری اور شہریوں و مقیم افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ شہری تنصیبات، ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ایران خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے اور بین الاقوامی معاہدوں اور عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی پر مصر ہے۔

ایران کے صدر کی اس اپیل کے حوالے سے کہ ان کے ملک کا ہمسایہ ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں اور یہ فیصلہ قیادت کونسل نے کیا ہے، سعودی عرب نے واضح کیا کہ ایرانی فریق نے اس بیان کو عملی طور پر نافذ نہیں کیا بلکہ ایرانی صدر کی تقریر کے دوران اور اس کے بعد بھی حملے جاری رہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایران اپنے اقدامات کے لیے کمزور اور بے بنیاد دلائل پیش کر رہا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ جنگ میں شرکت کے لیے سعودی عرب سے جنگی طیارے اور ایندھن فراہم کرنے والے طیارے روانہ ہوئے۔ 

سعودی عرب نے اس دعوے کو پہلے ہی مسترد کیا تھا اور واضح کیا تھا کہ یہ طیارے صرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی فضائی حدود کی نگرانی اور ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے تحفظ کے لیے گشت کر رہے ہیں۔

سعودی عرب نے زور دے کر کہا کہ ایران کی مسلسل جارحیت خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بنے گی اور اس کے موجودہ اور مستقبل کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ 

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ تصادم کے دائرے کو مزید وسیع کرنے سے گریز کرے، کیونکہ اس کے سب سے زیادہ منفی نتائج خود ایران کو ہی بھگتنا پڑیں گے۔