امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔
اس دوران ایران کو شدید امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں دار الحکومت تہران اور اس کے نواح میں موجود تیل ریفائنریوں، ایندھن تنصیبات اور ذخیرہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے شہر حیفا کی تیل ریفائنری پر میزائل حملہ کیا۔
ایران، امریکہ جنگ: اپ ڈیٹ رہنے کے لیے کلک کریں
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان فوجی کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جہاں دونوں جانب سے میزائل حملے جاری ہیں اور عسکری کارروائیوں کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے۔
اس کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل، تجارت، فضائی سفر اور سمندری نقل و حمل پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ایرانی تیل تنصیبات پر شدید بمباری
جنگ کے آٹھویں دن امریکی اور اسرائیلی حملوں میں تہران میں ایندھن کے کئی ذخیرہ ٹینکوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ان ریفائنریوں کو ایرانی فوجی ڈھانچے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
ایرانی میڈیا نے حملوں کے بعد تہران میں شدید آگ بھڑکنے کی اطلاع دی جبکہ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایران کی متعدد ایندھن تنصیبات پر حملے کیے۔
سرکاری اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیل نے ایران کے اندر اہداف کی فہرست میں تیل کی تنصیبات کو بھی شامل کر لیا ہے، جسے توانائی کے شعبے پر براہِ راست دباؤ ڈالنے کی نئی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی نے وزارتِ تیل کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل نے تہران کے مغربی علاقوں میں واقع کئی تیل ذخائر کو نشانہ بنایا۔
ایران کا حیفا ریفائنری پر حملہ
بیان کے مطابق ریفائنری کو ’خیبر شکن‘ میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جو تہران کی توانائی تنصیبات پر حملوں کے ردِعمل میں کیا گیا اقدام ہے۔
خلیجی ممالک بھی نشانے پر
جنگ کے نویں دن ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر بھی نئے میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
امارات میں حکام نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام نے ایران سے داغے گئے میزائل اور ڈرون روک لیے جبکہ سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں انہی کارروائیوں کا نتیجہ تھیں۔
کویت میں وزارتِ دفاع کے ترجمان کرنل سعود العطوان کے مطابق فضائی دفاع نے 7 ڈرون اور 3 بیلسٹک میزائل تباہ کیے، جن کے نتیجے میں صرف مادی نقصان ہوا۔
بحرین میں وزارت داخلہ نے بتایا کہ ایرانی ڈرون حملے سے ایک پانی صاف کرنے کے پلانٹ کو نقصان پہنچا، جبکہ محرق میں یونیورسٹی کی عمارت پر میزائل کے ٹکڑے گرنے سے 3 افراد زخمی ہوگئے۔
ٹرمپ: ایران سے مذاکرات میں دلچسپی نہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہ سکتی ہے جب تک ایران کے پاس مؤثر فوج یا حکومتی قیادت باقی نہ رہے۔
ایران: 6 ماہ تک جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا کہ ایران کم از کم 6 ماہ تک موجودہ شدت کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جن میں امریکی اور اسرائیلی اڈے شامل ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک زیادہ تر پہلی اور دوسری نسل کے میزائل استعمال کیے گئے ہیں اور آئندہ مراحل میں زیادہ جدید اور طویل فاصلے کے میزائل استعمال کیے جائیں گے۔
اسرائیل کی نئی دھمکی
اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی مجلس خبرگان نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے اجلاس منعقد کرتی ہے تو اس کے ارکان کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔