اہم خبریں
16 March, 2026
--:--:--

جنگ کا آٹھواں دن: تہران پر شدید بمباری، 43 ایرانی بحری جہاز تباہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

جنگ کے آٹھویں روز بھی تہران پر اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جبکہ ایران نے مختلف محاذوں پر جوابی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ میں میزائل حملوں، فضائی کارروائیوں اور سمندری جھڑپوں جیسے واقعات کے اثرات عالمی تجارت، تیل کی قیمتوں، ہوائی سفر اور سمندری راستوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔

تہران پر نئے فضائی حملے

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے تہران اور ایران کے وسطی علاقوں میں نئی اور وسیع فضائی کارروائی شروع کی ہے۔ 

بیان کے مطابق اس حملے میں 80 سے زیادہ لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا اور ایرانی حکومت و فوجی ڈھانچے سے متعلق اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران، امریکہ جنگ: تازہ خبروں کے لیے کلک کریں

ان حملوں میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک امام حسین فوجی یونیورسٹی کو بھی نشانہ بنایا گیا، جسے اسرائیلی فوج کے مطابق ہنگامی مرکز اور فوجی اجتماع گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

اس کے علاوہ زیرِ زمین کمانڈ سینٹرز، میزائل ذخیرہ کرنے اور لانچ کرنے کے مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا، تاکہ ایران کی جانب سے میزائل حملوں کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی تہران کے مغربی حصے میں دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔

ایرانی ردعمل اور خلیج تک حملے

iran us war 11
(فوٹو: انٹرنیٹ)

ایران نے حملوں کے جواب میں اسرائیل کے ساتھ ساتھ ان خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنایا جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔

اُدھر اسرائیل میں فضائی دفاعی نظام سے ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کی کوشش کی گئی۔

اسی دوران متحدہ عرب امارات، کویت، قطر، بحرین اور سعودی عرب نے بھی اپنے علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔

ہمسایوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے، ایرانی صدر

ایران کے صدر مسعود بزشکیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران آئندہ پڑوسی ممالک کو نشانہ نہیں بنائے گا، بشرطیکہ ان کی سرزمین سے ایران پر حملے نہ کیے جائیں۔

سرکاری ٹی وی پر نشر تقریر میں انہوں نے کہا کہ عبوری قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمسایہ ممالک کے خلاف حملے روک دیے جائیں گے، جب تک وہاں سے ایران کے خلاف کارروائی نہ ہو۔

ٹرمپ کا غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی اور حل قبول نہیں کرے گا۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب بعض ممالک کی جانب سے جنگ بندی یا مذاکرات کی کوششوں کی خبریں سامنے آ رہی تھیں، تاہم ٹرمپ کے سخت مؤقف نے سفارتی حل کے امکانات کو کمزور کر دیا ہے۔

اس جنگ کے باعث عالمی مالیاتی منڈیاں بھی متاثر ہوئی ہیں اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

43 ایرانی جنگی جہاز تباہ، امریکی دعویٰ

hurmuz strait ship attacked
(فائل فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی فوج نے 43 ایرانی جنگی جہازوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کر دیا ہے۔

بیان کے مطابق جنگ کے پہلے ہفتے میں امریکی افواج نے 3000 سے زیادہ حملے کیے، جن میں ایرانی فوج کے کمانڈ مراکز، فضائی دفاعی نظام، میزائل لانچنگ سائٹس، بحری جہاز اور آبدوزیں نشانہ بنیں۔

خلیج اور عراق میں کشیدگی

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے خلیج میں ایک آئل ٹینکر ’بریما‘ کو ڈرون حملے سے نشانہ بنایا، کیونکہ اس نے آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی وارننگ کو نظر انداز کیا تھا۔

اسی دوران بغداد ایئرپورٹ کے کمپلیکس پر بھی ڈرون حملہ ہوا، جہاں امریکی فوجی و سفارتی تنصیبات ہیں۔

عراقی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے کے بعد آگ لگ گئی اور ایمبولینسیں موقع پر پہنچائی گئیں۔

کردستان (عراق) میں حملے

پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے عراق کے علاقے کردستان میں 3 مقامات پر حملے کیے، جہاں ’علیحدگی پسند گروہ‘ موجود تھے۔

ایرانی بیان میں کہا گیا کہ اگر یہ گروہ ایران کی سرزمین کے خلاف سرگرم ہوئے تو انہیں سختی سے کچل دیا جائے گا۔

وسیع جنگ کے خدشات

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری یہ جنگ اب خطے کی سرحدوں سے نکل کر خلیج اور عراق تک پھیلتی نظر آ رہی ہے۔

سمندری راستوں، توانائی کی منڈیوں اور عالمی تجارت پر اس کے اثرات واضح ہونے لگے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو یہ تنازع صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک وسیع علاقائی جنگ میں بدل سکتا ہے، جس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔