مولانا محمد عابد ندوی
جدہ
دلائل توحید کے ضمن میں سورۃ البقرہ آیت 164میں غور و فکر کے لئے 7 اہم اُمور کا تذکرہ ہے۔
توحید باری تعالیٰ یعنی اﷲ کے یکتا ہونے اور اس کی عظیم قدرت پر دلالت کرنے والی نشانیوں میں سے چوتھی نشانی جو اس آیت میں بیان ہوئی، وہ آسمان سے بارش کا نزول پھر اس بارش کے ذریعہ مردہ زمین کی زندگی اور اس سے ہر طرح کے پودوں کی روئیدگی اور انواع واقسام کے درختوں کی نشو و نما ہے۔
کون نہیں جانتا کہ پانی صرف انسانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ اس کرۂ ارض پر بسنے والی ہر جاندار مخلوق کے لئے رب کریم کا عظیم انعام اور عطیہ ہے۔
پانی کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا، مختصر وقت کے لئے بھی پانی نہ ملے تو انسان ہی نہیں حیوانات بھی زندگی کی نعمت سے مرحوم ہوجاتے ہیں اور نباتات سے ان کی رونق اور سر سبزی و شادابی چھن جاتی ہے، پھر وہ پژمُردگی کا شکار ہوجاتے ہیں، ﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز کو بنایا، کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے؟۔( الأنبیاء 30)
مزید پڑھیں
یقینا ہر چیز کے وجود پذیر ہونے میں اور اس کی بقا میں پانی کو بڑا دخل ہے اور پانی زندگی کا ایک اہم عنصر ہے۔
اب کوئی رب کریم کی اس نوازش اور عظیم نعمت پر غور کرے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے آب رسانی کا کتنا بہترین نظام جاری فرمایا، سمندروں کی شکل میں پانی کا وافر ذخیرہ کرۂ ارض پر پھیلادیا، دریاؤں اور نہروں کی شکل میں خوشگوار اور میٹھا پانی جاری کردیا، زمین کی
تہہ میں پانی کی بھاری مقدار رکھ دی جسے انسان معمولی محنت و کوشش سے زمین کھود کر کنوؤں کی شکل میں حاصل کرتا ہے۔
اگر اﷲ اس پانی کو اتنا نیچے کردے کہ اس تک پہنچنا انسان کے بس میں نہ رہے تو کیا کوئی اور معبود یا قدرت والا ایسا ہے جو انسان کو میٹھا پانی دے سکے ؟
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
تم کہہ دو! تمہارا کیا خیال ہے اگر تمہارا پانی زمین میں نچلی سطح پر اُتر جائے تو کون ہے جو تمہارے لئے میٹھا پانی لے آئے؟۔ ( الملک 30)
پھر آب رسانی کی سب سے بہتر شکل جس کا ہر انسان مشاہدہ کرتا ہے وہ بارش کا نظام ہے کہ سورج کی گرمی جب سمندر کے پانی پر پڑتی ہے تو وہ بخارات بن کر بادل کی شکل میں اوپر کو اُٹھتا ہے، پھر یہ بادل ہواؤں کے دوش پر سفر کر کے جدھر اﷲ کا حکم ہو ادھر برس پڑتے ہیں جس سے انسان اور دیگر مخلوق مستفید ہوتی ہے:
وہ اﷲ ہی ہے جو لوگوں کے نا اُمید ہو جانے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، وہی کار ساز اور قابل تعریف ہے۔ ( الشوریٰ 28)
بارش کا یہ پانی تالابوں اور کنوؤں کی شکل میں جمع ہو کر نہ صرف انسانوں کے پینے کے کام آتا ہے بلکہ اس سے مردہ زمین میں زندگی پیدا ہوتی ہے اور پھر اس پانی کے ذریعہ ہی زمین سے انواع و اقسام کے درخت اور پودے اُگتے ہیں۔ غلہ، اناج اور لذیذ پھل نکلتے ہیں۔
اگر آسمان سے بارش کے نزول کا یہ بہترین نظام نہ ہو یا ﷲ تعالیٰ بندوں کی نافرمانی اور گناہوں کے سبب بارش روک لے تو کیا یہ انسان کے بس میں ہے کہ وہ پانی جیسی زندگی کے لئے ضروری چیز کا کہیں سے انتظام کرسکے؟
یا ﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی ذات ایسی ہے جو انھیں یہ نعمت عطا کرسکے؟
ﷲ تعالیٰ کے اس فرمان میں غور کیجئے، ارشاد ہے:
’’ اچھا یہ بتاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو اسے بادلوں سے بھی تم ہی اُتارتے ہو یا ہم برساتے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا زہر کردیں پھر تم ہماری شکر گزاری کیوں نہیں کرتے؟ ( الواقعہ 70-68)
الغرض قدرتِ الہی کی عظیم نشانیوں میں ایک اہم نشانی آسمان سے بارش کا نزول ہے جو انسانوں کے علاوہ روئے زمین پر بسنے والی دیگر مخلوقات کی زندگی اور بقا کا ایک اہم عنصر ہے، یہی بارش ہے جس سے مردہ زمین میں زندگی کے آثار نمودار ہوتے ہیں، اس سے لہلہاتے پودے اور انواع و اقسام کے درخت اُگتے ہیں، جسے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور اس کے پھل انسانوں کی غذا بنتے ہیں، ہر قسم کے اناج اور غلہ کی پیداوار اسی بارش کے سبب ہے، اگر اﷲ آسمان میں بارش کو روک لے تو کوئی طاقت نہیں جو آسمان سے بارش برسا سکے۔
قرآن پاک میں جگہ جگہ غور و فکر کے لئے اﷲ تعالیٰ نے اپنے ان انعامات کا ذکر فرمایا ہے تاکہ بندے قدرت کی ان نشانیوں میں غور کر کے اﷲ کی معرفت حاصل کریں اور اس کے شکر گزار بن جائیں۔