ولی عہد و وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم عالمی رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطے کیے اور موجودہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ولی عہد نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
گفتگو کے آغاز میں شہزادہ محمد بن سلمان نے ایران کی جانب سے ترکی کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ سعودی عرب ترکی کی سلامتی اور اس کی سرزمین کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔
مزید پڑھیں
دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی پر ممکنہ اثرات پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔
دوسری طرف سعودی ولی عہد کو برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کی جانب سے بھی ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔
اس دوران خطے کی موجودہ صورتحال اور اس کے علاقائی و بین الاقوامی سلامتی پر اثرات پر گفتگو کی گئی۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے اس موقع پر ایران کی جانب سے سعودی عرب پر کیے گئے حملوں کے معاملے پر مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ سعودی عرب کی خودمختاری، استحکام اور اس کی سرزمین کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خطے میں جاری فوجی کشیدگی کے باعث علاقائی اور عالمی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔