ایسے وقت میں جب توجہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ اور اس کے اعلان کردہ فوجی اہداف پر مرکوز ہے، اس تنازعے کی بھاری معاشی قیمت کے پہلو بھی بتدریج سامنے آ رہے ہیں۔
ایران کے اندر دھماکوں اور حملوں کے ساتھ ساتھ امریکی خزانے سے تیزی سے مالی اخراج بھی جاری ہے، جو واشنگٹن کے دفاعی اخراجات کے توازن کو بدل سکتا ہے۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے؟ باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
میڈیا رپورٹس اور تحقیقی مراکز کے ابتدائی اندازوں کے مطابق اس جنگ کی لاگت روزانہ تقریباً ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو یہ امریکی دفاعی بجٹ کے لیے ایک ’بلیک ہول‘ ثابت ہو سکتی ہے۔
روزانہ ایک ارب ڈالر… مہنگی جنگ
امریکی کانگریس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وزارتِ دفاع ’پینٹاگون‘ کے ابتدائی اندازوں کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ کی لاگت روزانہ تقریباً ایک ارب ڈالر کے قریب ہے۔
یہ بات امریکی جریدے ’دی اٹلانٹک‘ نے نقل کی ہے۔
اخراجات صرف بموں اور میزائلوں تک محدود نہیں بلکہ ان میں فضائی اور بحری بیڑوں کی آپریشنل لاگت، جدید دفاعی نظام، لاجسٹک سپورٹ اور خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی بھی شامل ہے۔
امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں کے آغاز کے پہلے 48 گھنٹوں میں امریکی فوج نے ایران کے اندر 1250 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے لیے 20 سے زیادہ اقسام کے فوجی اور جنگی نظام استعمال کیے گئے۔
پہلے دن کی لاگت: 779 ملین ڈالر
جب تہران میں دھماکے ہو رہے تھے تو اسی وقت امریکی خزانہ غیر معمولی رفتار سے اخراجات کر رہا تھا۔
خبر رساں ادارے انادولو کے اندازوں کے مطابق حملے کے آغاز کے پہلے 24 گھنٹوں میں امریکی افواج نے تقریباً 779 ملین ڈالر خرچ کیے، جو امریکہ کے 2026 کے دفاعی بجٹ کا تقریباً 0.1 فیصد بنتا ہے۔
فوجی تعیناتی میں شامل تھے:
B-2 اسٹیلتھ بمبار
F-22، F-35 اور F-16 جنگی طیارے
A-10 حملہ آور طیارے
EA-18G الیکٹرانک جنگی طیارے
MQ-9 ریپر ڈرونز
ایٹمی طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز
پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل دفاعی نظام
اسی دوران B-2 بمبار طیاروں نے امریکی ریاست میسوری کے وائٹ مین ایئر بیس سے طویل پرواز کر کے تقریباً 2000 پاؤنڈ وزنی JDAM گائیڈڈ بموں سے اہداف کو نشانہ بنایا۔
ڈرونز… نسبتاً سستا ہتھیار
بلومبرگ کے اندازوں کے مطابق مختلف فوجی نظاموں کی آپریشنل لاگت 35 ہزار ڈالر سے لے کر کئی ملین ڈالر تک ہو سکتی ہے۔
مثلاً:
ایک خودکش ڈرون کی قیمت تقریباً 35 ہزار ڈالر
اگر 1250 ڈرونز استعمال کیے جائیں تو مجموعی لاگت تقریباً 43.8 ملین ڈالر بن سکتی ہے۔
اگرچہ ڈرونز کو مہنگے میزائلوں کے مقابلے میں کم خرچ ہتھیار سمجھا جاتا ہے لیکن ان کے بڑے پیمانے پر استعمال سے مجموعی جنگی اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
اسٹیلتھ بمبار اور میزائل… ہر حملہ لاکھوں میں
اس جنگ کے بڑے فضائی حملے سب سے زیادہ مہنگے ہیں۔
اندازوں کے مطابق بعض آپریشنز کی قیمت کروڑوں ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
اہم اعداد و شمار:
B-2 بمبار کی فی گھنٹہ پرواز کی لاگت: 130 ہزار سے 150 ہزار ڈالر
THAAD دفاعی میزائل کی قیمت: تقریباً 12.8 ملین ڈالر فی میزائل
جدید طیاروں اور ڈرونز کے ذریعے کیے جانے والے درست نشانے والے حملے جنگی اخراجات میں مزید ملین ڈالر کا اضافہ کر دیتے ہیں۔
طیارہ بردار بحری جہاز… مسلسل روزانہ خرچ
بحری آپریشن بھی اس جنگ کی لاگت کا بڑا حصہ ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق خطے میں دو طیارہ بردار جہازوں کی تعیناتی پر روزانہ تقریباً 13 ملین ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق صرف USS Gerald Ford طیارہ بردار جہاز کی روزانہ آپریشنل لاگت تقریباً 11.4 ملین ڈالر ہے۔
اربوں ڈالر کہاں خرچ ہو رہے ہیں؟
سنٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے تجزیے کے مطابق جنگ کی روزانہ لاگت تقریباً 891.4 ملین ڈالر ہو سکتی ہے۔
اگر کم قیمت ہتھیار استعمال کیے جائیں تو بعد میں اخراجات کچھ کم ہو سکتے ہیں۔
روزانہ اخراجات کی تقسیم تقریباً یوں ہے:
فضائی آپریشنز
ایندھن بردار اور کارگو طیارے: 9 ملین ڈالر
روایتی لڑاکا طیارے: 5 ملین ڈالر
اسٹیلتھ جنگی طیارے: 5 ملین ڈالر
بحری آپریشنز
طیارہ بردار جہاز: 6 ملین ڈالر
ڈسٹرائر جنگی جہاز: 5 ملین ڈالر
زمینی آپریشنز
آرٹلری بریگیڈ: تقریباً 1 ملین ڈالر
نیشنل گارڈ بٹالین: 1 ملین ڈالر سے کم
گزشتہ سال کے حملوں سے موازنہ
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ جنگ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہنگی ہے۔
جون 2025 میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں، جسے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کہا گیا، کی لاگت تقریباً 2 سے 2.26 ارب ڈالر تھی اور یہ آپریشن صرف ڈھائی گھنٹے جاری رہا۔
مگر موجودہ جنگ میں صرف پہلے 100 گھنٹوں کی لاگت ہی تقریباً 3.7 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
جنگی اخراجات کہاں تک جائیں گے؟
ماہرین کے مطابق جنگ کی حتمی لاگت کا اندازہ اس کے اختتام سے پہلے لگانا مشکل ہے۔
انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز کی ماہر لنڈسے کوشغاریان کے مطابق ایسی جنگوں کی اصل قیمت اکثر بعد میں سامنے آتی ہے۔
مثال کے طور پر عراق جنگ کی مجموعی لاگت تقریباً 3 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچی تھی۔
پنسلوانیا یونیورسٹی کے بجٹ ماڈل پروگرام کے ڈائریکٹر کینٹ اسمیٹرز کے مطابق اگر جنگ دو ماہ تک جاری رہی تو اس کی لاگت 40 سے 95 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے، خاص طور پر اگر زمینی فوج بھی تعینات کی گئی۔
تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے نزدیک یہ اخراجات اس خطرے کے مقابلے میں کم ہو سکتے ہیں جو ایران کے ممکنہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے پیدا ہو سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر کھربوں ڈالر کے نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔