تین باخبر ذرائع کے مطابق ایرانی کرد ملیشیاؤں نے امریکہ کے ساتھ مشاورت کی ہے کہ آیا ایران کے مغربی حصے میں حملہ کرنا چاہیے اور اس کو کیسے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
العربیہ کے ذرائع کے مطابق ایرانی کرد گروہوں کا ایک اتحاد ایران، عراق سرحد کے قریب، عراقی کردستان میں ہے، جہاں وہ ایسے حملے کی تیاری کے لیے مشقیں کر رہے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ اس سے ایرانی فوج کو کمزور کیا جا سکے۔
اسی دوران امریکہ اور اسرائیل ایرانی مقامات کو بمباری اور میزائل حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
ایران، امریکہ جنگ: دائرہ وسیع ہو رہا ہے، باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عراق میں ایرانی کرد فوجیوں کو ایران پر حملہ کرنے کی ترغیب دی جبکہ اس وقت آذربائیجان نے ایرانی میزائل حملے کے جواب کا عندیہ بھی دیا ہے۔
اسرائیل نے آج جمعہ کو اعلان کیا کہ اس نے تہران میں انفراسٹرکچر کے خلاف وسیع پیمانے پر حملوں کا آغاز کر دیا ہے جبکہ خلیجی شہروں کو ایران کی جانب سے نئے حملوں کا سامنا رہا۔
ایران نے 7 روزہ جاری جنگ میں اسرائیل، خلیج ممالک، قبرص، ترکی اور آذربائیجان پر حملے کیے ہیں، جو ہندوستانی سمندر تک پھیلی ہے جہاں امریکی آبدوز نے ایک ایرانی جنگی جہاز ڈوبو دیا۔
ایرانی کرد فورسز کے ممکنہ ایران میں داخل ہونے کے حوالے سے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے رائٹرز کو کو بتایا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ شاندار ہے کہ وہ یہ کرنا چاہتے ہیں اور میں ان کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔