مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث فضائی سفر شدید متاثر ہونے کے بعد خطے میں پھنسے مسافروں کی صورتحال آہستہ آہستہ بہتر ہونے لگی ہے۔
مزید پڑھیں
کئی ایئرلائنز نئی پروازیں شیڈول کر رہی ہیں جبکہ مختلف حکومتیں اپنے شہریوں کو خطے سے نکالنے کے لیے خصوصی چارٹر پروازوں کا انتظام بھی کر رہی ہیں۔
اس پیش رفت کے باوجود صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی اور پروازوں کے شیڈول بدستور متاثر ہیں کیونکہ خطے پر جنگ کے بادل تاحال منڈلا رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہزاروں مسافر پہلے ہی متحدہ عرب امارات کے بڑے فضائی مراکز سے روانہ ہونے والی تجارتی پروازوں کے ذریعے خطے سے نکل چکے ہیں۔
ایران، امریکہ جنگ: کیا ہو رہا ہے، باخبر رہنے کے لیے کلک کریں
اس کے باوجود جنگی حالات کے باعث فضائی نظام میں پیچیدگیاں برقرار ہیں اور کئی مسافر اب بھی متبادل پروازوں کے انتظار میں ہیں۔
امریکہ نے گزشتہ روز مشرقِ وسطیٰ سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے پہلی خصوصی پرواز روانہ کی۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق خطے کے مختلف مقامات سے مزید 4 پروازیں بھی چلانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا سکے۔
امریکی وزارت خارجہ نے اپنے شہریوں کو مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک سے فوری طور پر نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ ہدایت ایسے وقت میں جاری کی گئی جب امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ اپنے چھٹے روز میں داخل ہو گئی ہے۔
وزارت نے اس حوالے سے جاری ہدایت میں اسرائیل، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی شہریوں سے کہا کہ وہ ہنگامی فارم پُر کریں تاکہ انہیں ممکنہ فضائی اور زمینی نقل و حمل کے ذرائع کے بارے میں معلومات فراہم کی جا سکیں۔
امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان ٹومی پیگوٹ نے سی این این کو بتایا کہ تقریباً 3 ہزار امریکی شہری پہلے ہی وزارت خارجہ کے ساتھ رجسٹر ہو چکے ہیں تاکہ انہیں ممکنہ مدد فراہم کی جا سکے۔
اس سے قبل قونصلر امور کے ایک عہدیدار نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پیغام جاری کرتے ہوئے بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے، غزہ، اُردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود امریکی شہریوں کو دستیاب تجارتی پروازوں کے ذریعے فوری روانگی کی ہدایت دی تھی۔
دوسری جانب کئی دیگر ممالک نے بھی اپنے شہریوں کے لیے اسی نوعیت کی سفری ہدایات جاری کی ہیں اور خطے میں پھنسے مسافروں کی مدد کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
فضائی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دنیا کی چند بڑی ایئرلائنز کام کرتی ہیں جن میں دبئی اور ابوظبی میں قائم امارات ایئرلائن اور اتحاد ایئرویز کے علاوہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم قطر ایئرویز شامل ہیں۔
یہ تینوں شہر عالمی فضائی ٹرانزٹ کے اہم مراکز سمجھے جاتے ہیں جہاں سے ہر سال لاکھوں مسافر مختلف ممالک کا سفر کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ امارات ایئرلائن نے، جس نے اپنے مرکزی اڈوں سے تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی تھیں، پیر کی شام کچھ محدود وطن واپسی اور کارگو پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق دبئی سے آنے اور جانے والی تمام شیڈول پروازیں کم از کم 7 مارچ کو متحدہ عرب امارات کے وقت کے مطابق رات 11 بج کر 59 منٹ تک معطل رہیں گی۔
دبئی ایئرپورٹس کی سرکاری ویب سائٹ نے بھی مسافروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس وقت تک ہوائی اڈے کا رخ نہ کریں جب تک متعلقہ ایئرلائنز کی جانب سے انہیں براہ راست رابطہ کر کے ہدایات نہ دی جائیں۔
خطے میں جاری کشیدگی کے باعث فضائی نظام ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوا اور کئی پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہیں، تاہم ایئرلائنز اور حکام صورتحال کو بتدریج معمول پر لانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔