شہزادہ محمد بن سلمان برائے بحالی تاریخی مساجد مملکت کے مختلف علاقوں میں تاریخی اور دینی اہمیت کی حامل مساجد کی بحالی اور ان کی اصل معماری شناخت کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے۔
یہ اقدامات وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
اسی سلسلے میں مدینہ منورہ کی مسجد بنی حرام کو بھی ترقیاتی منصوبے میں شامل کیا گیا۔
مسجد بنی حرام جبل سلع کے دامن میں واقع ہے اور اس کا تعلق سیرتِ نبوی سے ہے۔
روایت کے مطابق نبی کریمﷺ نے غزوۂ احزاب کے دوران یہاں نماز ادا کی جبکہ اسی مقام کے قریب حضرت جابر بن عبداللہؓ کے گھر معجزۂ تکثیرِ طعام پیش آیا۔
تاریخی طور پر اموی خلیفہ عمر بن عبد العزيز نے اس مسجد کی توسیع کرائی۔
وقت کے ساتھ مسجد کے آثار مٹ گئے تاہم بعد میں بنیادیں دریافت ہونے پر اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔
جدید تعمیر میں اس کا رقبہ تقریباً 226 مربع میٹر تھا جسے حالیہ ترقی کے بعد بڑھا کر 236 مربع میٹر کر دیا گیا جبکہ گنجائش 172 نمازیوں تک کر دی گئی۔
مشروع الأمير محمد بن سلمان لتطوير المساجد التاريخية يطوّر مسجد بني حرام في المدينة المنورة ويحفظ إرثه المرتبط بغزوة الأحزاب.https://t.co/Sg1Q3Yj8iE#ولي_العهد_يجدد_مساجد_تاريخية
— واس العام (@SPAregions) March 5, 2026
#واس_رمضان47 pic.twitter.com/S6kSOK9JY1
منصوبے کے تحت مسجد کو مدینہ کے روایتی طرزِ تعمیر کے مطابق مقامی قدرتی مواد سے بحال کیا گیا تاکہ اس کی تاریخی شناخت برقرار رہے۔
یہ اقدام مملکت کے دینی و ثقافتی ورثے کے تحفظ اور اس کے فروغ کی عکاسی کرتا ہے۔
مشرقی ریجن میں متعدد دشمن ڈرونز تباہ
شہزادہ محمد بن سلمان اور شیخ محمد بن زاید کا ٹیلیفونک رابطہ
ایران کے خلاف جنگ تیسرے ہفتے میں داخل، کشیدگی میں مسلسل اضافہ
بحرین: ایرانی پاسداران انقلاب کے لیے جاسوسی کے الزام میں 5 افراد گرفتار
عالمی تیل بحران برقرار: تاریخ کا سب سے بڑا اسٹریٹیجک آئل ریلیز