سلطنت عمان کے علاقے المصنّعہ میں منعقد ہونے والے اونٹوں کے ’بیوٹی فیسٹیول 2026‘میں اس وقت بڑا تنازع کھڑا ہو گیا جب منتظمین نے کاسمیٹک طریقوں کے استعمال کی تصدیق کے بعد 20 اونٹوں اور اونٹنیوں کو مقابلے سے خارج کر دیا۔
مزید پڑھیں
رپورٹس کے مطابق ان جانوروں پر غیر قانونی طریقوں سے حسن بڑھانے کی مختلف اشیا استعمال کی گئی تھیں جن میں بوٹوکس، فلر اور سلیکون کا استعمال شامل تھا۔
مقابلے کی انتظامی کمیٹی نے یہ فیصلہ اُس وقت کیا جب ماہر ویٹرنری ڈاکٹروں نے تفصیلی طبی معائنے کے بعد ان تبدیلیوں کی نشاندہی کی۔
جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ بعض مالکان نے اونٹوں کے چہرے کی
شکل بدلنے، ہونٹوں کو زیادہ ابھار دینے، ناک کی ساخت تبدیل کرنے اور کوہان کا سائز بڑھانے کے لیے انجیکشن کا استعمال کیا۔
اس کے علاوہ کچھ جانوروں کو زیادہ طاقتور اور پرکشش دکھانے کے لیے نشوونما بڑھانے والے ہارمونز بھی لگائے گئے تھے تاکہ وہ ججوں کے سامنے زیادہ نمایاں نظر آئیں۔
واضح رہے کہ اونٹوں کے حسن کے مقابلے عرب ثقافت کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں جہاں مالکان اپنے جانوروں کی قدرتی خوبصورتی نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان مقابلوں میں عموماً اونٹ کے بالوں کی چمک، گردن کی لمبائی، ہونٹوں کی بھرپور شکل، پلکوں کی لمبائی اور کوہان کی ساخت کو اہم معیار سمجھا جاتا ہے، تاہم مصنوعی کاسمیٹک طریقوں کے استعمال نے اس حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مصنوعی طریقے صرف مقابلوں کی شفافیت ہی کو متاثر نہیں کرتے بلکہ جانوروں کی صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
ویٹرنری ماہرین کے مطابق بوٹوکس کے استعمال سے اونٹ کے چبانے اور پانی پینے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح فلر انجیکشن مستقل سوزش کا سبب بن سکتے ہیں جبکہ نشوونما بڑھانے والے ہارمونز بانجھ پن اور جسمانی بگاڑ جیسی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔