مسجد الدرع مدینہ منورہ کی اہم تاریخی مساجد میں سے ایک ہے۔
یہ سیرت نبوی سے جڑی اہم روایات کا حامل ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نماز ادا کی جب آپ تیسری ہجری میں غزوہ اُحد کے لیے روانہ ہوئے تھے۔
اس علاقے کو میدانِ جنگ کی تیاری اور رات گزارنے کی جگہ کے طور پر اختیار کیا۔
مسجد شہر کے شمالی حصے میں، جبل اُحد کے قریب واقع ہے۔
ایک ایسے شہری دائرے میں جو صدیوں سے سیرت سے متعلقہ مقامات کی حفاظت اور نگہداشت کے لیے معروف رہا ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے مذہبی اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
تاریخی کتب کے مطابق مسجد کا نام ’الدرع‘ اس لیے پڑا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مقام پر اپنی درّع یعنی زرہ پہن کر دشمن کا سامنا کرنے کی تیاری کی اور یہ نام مقامی طور پر عام ہو گیا۔
بعد میں اسی مقام پر مسجد تعمیر کی گئی تاکہ اس واقعے کو یادگار بنایا جا سکے۔
اسے ’مسجد الشيخين‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کیونکہ قریبی مقام پر نبی کریم کے لشکر کے کیمپ کی روایت ملتی ہے، لیکن مسجد الدرع کا نام زیادہ عام اور معروف ہے۔
مسجد پر صدیوں کے دوران مرمت اور دیکھ بھال کے کام ہوئے تاکہ تاریخی مساجد کی حفاظت ممکن ہو اور مسجد اپنا مذہبی اور ثقافتی کردار برقرار رکھے۔
اس کی سادہ اور تاریخی طرزِ تعمیر علاقے کے دیگر تاریخی مقامات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
آج مسجد الدرع کو مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات کی حفاظت کے نظام کے تحت خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ یہ مسلمانوں اور زائرین کے لیے سیرت نبوی کے تاریخی مقامات میں سے ایک اہم مقام کے طور پر برقرار رہے۔