امریکی جریدے پولیٹیکو کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں نظام کی مکمل تبدیلی چاہتے ہیں، تاہم درحقیقت ان کی ترجیح نظام گرانا نہیں بلکہ اس کے رویّے کو تبدیل کرنا ہے تاکہ وہ امریکی مفادات اور پالیسیوں سے ہم آہنگ ہو جائے۔
امریکہ کو کیسا طرزِ عمل درکار ہے؟
رپورٹ میں ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن کے نزدیک نظام کی تبدیلی کا مطلب دراصل طرزِ عمل کی تبدیلی ہے۔
عہدیدار کے مطابق عراق اور افغانستان کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے اب مکمل ریاستی ڈھانچے کو گرانے کے بجائے اس کے رویّے کو بدلنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ایران، وینزویلا اور کیوبا کے حوالے سے اولین ترجیح یہ ہے کہ وہاں اقتدار میں موجود قیادت ایسا طرزِ عمل اختیار کرے جو امریکہ کو قابلِ قبول ہو۔
مکمل تبدیلی کیوں مشکل؟
رپورٹ میں انٹرنیشنل کرائسز گروپ (برسلز میں ایک تھنک ٹینک) کے سینئر ایرانی تجزیہ کار علی واعظ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایران میں حقیقی نظام کی تبدیلی کے لیے ریاست کی ازسرِنو تعمیر درکار ہوگی، جس میں صدر ٹرمپ اور ان کے معاونین دلچسپی نہیں رکھتے۔
واعظ کے مطابق بہتر اصطلاح نظام کی تبدیلیِ جہت (Transforming the system) ہے، جس میں بنیادی ڈھانچہ برقرار رہتا ہے لیکن اس کا رویّہ امریکی مفادات کے مطابق ڈھل جاتا ہے ، خواہ وہ امریکی اقدار سے مکمل ہم آہنگ نہ بھی ہو۔
مطالبات اور شرائط
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران سے درج ذیل بنیادی مطالبات رکھتی ہے:
• جوہری پروگرام ترک کرنا
• بیلسٹک میزائل پروگرام ختم کرنا
• خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت روکنا
واشنگٹن کے نزدیک یہ عوامل امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ ٹرمپ نے ماضی میں ایرانی قیادت سے مذاکرات کی آمادگی بھی ظاہر کی، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ موجودہ ریاستی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے اسے اپنی شرائط پر ڈھالنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ کے دورِ صدارت میں ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں بھی عائد کی گئیں، تاہم اس حکمتِ عملی سے نہ نظام تبدیل ہوا اور نہ ہی اس کے عمومی رویّے میں بڑی تبدیلی آئی۔
ممکنہ نتائج
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ فوجی مداخلت ایران کو ایک ناکام ریاست میں بھی بدل سکتی ہے، یا پھر فوج مکمل اقتدار سنبھال کر ایک نئے طرز کی آمریت قائم کر سکتی ہے۔
اسی طرح یہ بھی بعید نہیں کہ کسی بھی فوجی مہم کے بعد بھی امریکہ فوری طور پر پابندیاں ختم نہ کرے، جب تک اسے یقین نہ ہو جائے کہ نئی قیادت امریکی شرائط پر عمل درآمد کر رہی ہے۔