مفتی کلیم رحمانی
پوسد۔ انڈیا
قرآن مجید کی کسی بھی سورت اور آیت کے مفہوم و مطلب کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس کو خود قرآن سے سمجھا جائے کیونکہ قرآن مجید میں بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں کسی بات کو اجمالی طور سے بیان کیا گیا ہے اور دوسرے مقام پر اسی بات کی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
اس لیے قرآن مجید کی تفسیر کا سب سے پہلا اصول تمام مفسرین کے نزدیک، قرآن کی تفسیر خود قرآن سے ہے۔ قرآن مجید کا بعض حصہ اس کے بعض حصے کی تفسیر کرتا ہے۔
قرآن کی تفسیر کا دوسرا اصول حدیث رسولﷺ ہے جس میں اللہ کے رسول اللہﷺ کا قول و عمل دونوں شامل ہیں اور تیسرا اصول عمل صحابہؓ ہے چنانچہ یہ تینوں اصول قرآن مجید کی تعلیمات کو علم و عمل کے لحاظ سے پورے طور سے واضح کردیتے ہیں اور جو قرآن مجید کو سمجھنے میں ان تینوں اصولوں کو نظر انداز کردے وہ قرآن مجید کو سمجھ نہیں سکتا۔
مزید پڑھیں
چنانچہ سورہ الفاتحہ کا مفہوم و مطلب تفسیر کے مذکورہ اصولوں کی روشنی میں پیش کیا جارہا ہے۔
اَلْحَمدُ لِلّٰہِ رَبّ الْعَالَمِینْ
یہ سورہ الفاتحہ کی پہلی آیت ہے جس کے معنیٰ ’تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے‘۔
مطلب یہ کہ اس کائنات میں صرف اللہ ہی کی ذات حقیقی طور پر
تعریف کے لائق ہے۔
اگر کوئی چز قابل قدر ہو بھی سکتی ہے تو صرف اسی صورت میں جبکہ اس کا تعلق اللہ کی تعریف سے جڑے گا۔
انسانوں میں سے انبیاء اسلئے سب سے زیادہ قابل قدر ہیں کہ انہوں نے سب سے زیادہ اللہ کی حمد بیان کی اور انبیاء میں بھی تمام نبیوں سے افضل حضرت محمدﷺ اس لئے ہیں کہ آپﷺ نے تمام انبیاء علیہم السلام سے زیادہ اللہ کی حمد بیان کی۔
دل و عمل سے بھی حمد
اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے کا تعلق صرف زبان سے نہیں بلکہ دل و عمل سے بھی ہے اور زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق ہے۔
مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص دن بھر زبان سے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے لیکن زندگی کے معاملات میں اللہ کے احکام پر عمل نہ کرے تو وہ اللہ کی حمد بیان کرنے میں سچا نہیں۔
ویسے دیکھا جائے تو کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے میں لگی ہوئی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:
اسی کے لئے پاکی بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو اُن میں ہے اور کوئی ایسی چیز نہیں جو اس کی حمد بیان نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی پاکی بیان کرنے کو نہیں سمجھ سکتے، بیشک اللہ برد بار بخشنے والا ہے۔ (بنی اسرائیل 44)
مذکورہ آیت سے یہ بات واضح ہوئی کہ ایک طرح سے پوری کائنات کی آواز ’الحمد للہ‘ ہے، یعنی الحمد اللہ ہی کے لئے ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کلمہ کو سورہ الفاتحہ کا پہلا کلمہ بنا کر اور اس کو نماز میں رکھ کر اہل ایمان کو بھی حکم دیا کہ وہ بھی کائنات کی آواز میں آواز ملائے۔
ویسے اگر دیکھا جائے تو یہ جملہ ہر انسان کے تحت الشعور میں موجود ہے کو نکہ پیدائشی طور پر انسان کا دل، دماغ، آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پیر اللہ ہی کے احسان مند اور اللہ ہی کی حمد کرنے پر مجبور ہے۔
اللہ یہ چاہتا ہے کہ انسان اختیاری طور پر اپنی مرضی سے اللہ کی حمد بیان کرے اور اختیاری طور پر اللہ کی بڑائی کو تسلیم کرے۔
اللہ کی حمد کا نفاذ
اس کے باوجود بھی اگر کوئی انسان اللہ کی حمد بیان نہ کرے تو اس کے لئے کتنا افسوس کا مقام ہے کہ کائنات کی ہر چز تو اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرنے میں لگی ہوئی ہے لیکن انسان اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی حمد سے منہ موڑے ہوئے ہے۔
اسی رویہ سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کلمہ کو قرآن مجید کا افتتاح کرنے والی سورت کے افتتاح میں رکھ دیا ہے یعنی سورہ الفاتحہ کے شروع میں بلکہ اس سورت کا ایک نام ہی الحمد شریف ہے اور اس سورہ کو نماز کا لازمی حصہ قرار دیکر ہر نمازی کو یہ پغام دیدیا ہے کہ وہ اپنے اختیار و مرضی سے زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد کو نافذ کرے۔
مطلب یہ کہ زندگی کا کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں ہونا چاہئے جس میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کو چھوڑ کر کسی اور کی تعریف کی جاتی ہو اور اگر کوئی قابل تعریف قرار پاتا بھی ہو تو وہ اس بنا پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کی زیادہ تعریف کرتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج زیادہ تر انسانوں نے زندگی کے معاملات میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کو یکسر فراموش کر دیا ہے اور زیادہ تر ایمان والوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی تعریف کو صرف نماز کی ادائیگی کی حد تک ہی رکھا ہے اور زندگی کے بقیہ شعبوں میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کو فراموش کر دیا بلکہ بہت سے اہل ایمان زندگی کے دیگر شعبوں میں اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کی تعریف کرتے ہیں یہاں تک کہ بہت سے پنجوقتہ نمازی بھی اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
نماز کے خلاف عمل
اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ابھی نمازیوں نے سورہ الفاتحہ کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جو اصل نماز ہے بلکہ اس سورہ کا ایک نام ہی’الصلٰوۃ‘ ہے، یعنی نماز کی سورت اور اس سلسلہ میں فی الحال نماز سکھانے والے زیادہ قصور وار ہیں کہ انہوں نے صرف سورہ الفاتحہ کو سکھانے پر ہی اکتفا کر لیا ہے، اسکو سمجھایا نہیں جبکہ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ سورہ الفاتحہ کو سکھانے کے سا تھ ساتھ اس کوسمجھاتے بھی تاکہ نمازیوں کو بھی معلوم ہو کہ سورہ الفاتحہ کا ان سے کیا تقاضا ہے اور کب ان سے سورہ الفاتحہ کے خلاف کام ہو رہا ہے۔
سورہ الفاتحہ سے لا علمی ایک طرح سے اپنی نماز کے خلاف عمل ہے۔
حمد اور شکر
’ الحمد‘ کا ایک مطلب شُکر بھی ہے یعنی جس طرح تمام تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، اسی طرح تمام شکر اللہ ہی کے لئے ہے۔
کسی کے احسان کے اظہار کے لئے شکر کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کے شکر میں لگی ہوئی ہے اور خود انسان کا وجود پیدائشی طور پر اللہ کے احسان کا مظہر ہے تو اللہ یہ چاہتا ہے کہ انسان اختیاری طور پر بھی زندگی کے تمام شعبوں میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بنے لیکن افسوس ہے کہ انسان خود اپنے ضمیر کی آواز کو نہیں سنتا ورنہ ہر انسان کا ضمیر اسے کچوکے لگاتا ہے کہ وہ اللہ کا شکر گزار بنے لہذا جو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار نہیں بنا وہ خود اپنے آپ کا ناشکرا ہوگا اور جو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوا وہ اپنے آپ کا شکر گزار ہوا۔
یہی بات قرآن مجید میں ان الفاظ میں کی گئی ہے:
’جو شکر کرتا ہے پس بشک وہ خود اپنے لئے شکر کرتا ہے‘ (لقمان 12)۔
مطلب یہ کہ اس کے شکر کا فائدہ خود اس کی ذات کو پہنچے۔
بہر حال سورہ الفاتحہ کے پہلے کلمہ ’الحمد للہ‘ کا تقاضا ہے کہ مسلمان زندگی کے تمام معاملات میں چاہے وہ عبادت ہو، تجارت ہو، سیاست ہو، اللہ ہی کو قابل تعریف سمجھیں اور اللہ ہی کے شکر گزار رہیں۔