قطر میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار رکنے کے بعد عالمی منڈی میں کوئلے کی قیمتوں میں 3 برس کی سب سے بڑی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں نے علاقائی کشیدگی اور ایندھن مہنگا ہونے کے خدشات کے باعث متبادل ایندھن کی طرف رجحان بڑھانا شروع کر دیا ہے۔
نيوکاسل کول کے فیوچر معاہدے، جو ایشیا میں قیمتوں کے تعین کا اہم معیار سمجھے جاتے ہیں، 8.6 فیصد اضافے کے ساتھ 128.70 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قریبی مدت کے معاہدے کی یہ بلند ترین سطح دسمبر 2024 کے بعد پہلی بار ریکارڈ ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ یہ تیزی اس وقت آئی ہے جب قطر کی راس لفان تنصیب بند کر دی گئی ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا ایل این جی برآمدی کمپلیکس ہے اور عالمی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد فراہم کرتا ہے۔
یہ بندش ایرانی ڈرون حملے کے بعد عمل میں آئی۔حکام کے مطابق 30 برس میں پہلی مرتبہ یہاں مکمل طور پر پیداوار معطل کی گئی ہے۔
تنصیب کی بندش کے نتیجے میں یورپ میں گیس کی قیمتیں 39 فیصد بڑھ گئیں، جو 4 سال میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ توانائی منڈیوں میں اس پیش رفت نے سپلائی سے متعلق خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ایشیا میں، جہاں کئی ممالک قطری ایل این جی پر انحصار کرتے ہیں، تائیوان نے عندیہ دیا ہے کہ اگر گیس کی فراہمی طویل عرصے تک معطل رہی تو وہ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کا استعمال بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
اُدھر آسٹریلیا میں کوئلہ پیدا کرنے والی کمپنیوں کے حصص میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں وائٹ ہیون کول لمیٹڈ اور نیو ہوپ کارپوریشن کے شیئرز سڈنی میں ٹریڈنگ کے دوران 5 فیصد سے زیادہ چڑھ گئے اور S&P/ASX 200 پر بہترین کارکردگی دکھانے والی کمپنیوں میں شامل رہے۔