امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے امریکہ سے رابطہ کیا ہے اور مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔
یہ پیشکش ایرانی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے باعث اقدامات کی دھمکیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
العربیہ کے مطابق ٹرمپ نے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ تہران کے ساتھ ملاقات کے انتظام کے لیے بات چیت کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے مسلسل دباؤ سے تنگ آ چکے ہیں۔وہ ہم سے مذاکرات کرنا چاہتا ہے‘۔
تاہم اسی دوران انہوں نے خبردار کیا کہ ممکن ہے انہیں پہلے خود کوئی اقدام کرنا پڑے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران پر حملوں کے لیے نئے آپشنز پر غور کی خبروں میں اضافہ ہو
رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس میں ایرانی مظاہرین کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا ذکر کیا جا رہا ہے جس سے گزشتہ سال جون کے مناظر دوبارہ یاد آ گئے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال جون کی دسویں تاریخ کو ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے چھٹے دور کا انعقاد 14 جون کو مسقط میں متوقع ہے جو اس سے قبل ہونے والے پانچ دوروں کے بعد ہونا تھا۔