سعودی عرب میں سرکاری اور نجی شعبوں کو فراہم کیا جانے والا بینکنگ کریڈٹ مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن رہا اور سال 2025 کے اختتام تک اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جہاں اس کا مجموعی حجم تقریباً 3.3 ٹریلین ریال ریکارڈ کیا گیا۔
یہ سالانہ بنیاد پر 11.5 فیصد اضافہ ہے جبکہ 2024 کے مقابلے میں، جب یہ حجم تقریباً 2.9 ٹریلین ریال تھا، 340.6 ارب ریال سے زائد اضافہ ہوا۔
مزید پڑھیں
اخبار 24 کے مطابق دسمبر 2025 کے لیے جاری کردہ ماہانہ شماریات کے مطابق جو سعودی سینٹرل بینک ’ساما‘ نے شائع کیا، بینکنگ کریڈٹ میں سہ ماہی بنیاد پر بھی ایک فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اسی سال کی تیسری سہ ماہی کے اختتام پر موجود تقریباً 3.2 ٹریلین ریال کے مقابلے میں 34 ارب ریال سے زائد اضافہ ہے۔
ماہانہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دسمبر کے اختتام پر ماہانہ بنیاد
پر بھی 0.4 فیصد اضافہ ہوا جو نومبر کے اختتام پر موجود 3.282 ٹریلین ریال کے مقابلے میں 13.9 ارب ریال سے زائد اضافے کے برابر ہے۔
رپورٹ کے مطابق سرکاری و نجی شعبوں کو دیا گیا بینکنگ کریڈٹ مختلف اقتصادی سرگرمیوں میں تقسیم کیا گیا جس سے ہمہ جہت اور پائیدار اقتصادی ترقی کو تقویت ملتی ہے اور وژن 2030 کے اہداف کے تحت مالیاتی ماحول کی بہتری اور اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کی حمایت ہوتی ہے۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ طویل مدتی کریڈٹ ’تین سال سے زائد مدت‘ مجموعی کریڈٹ کا سب سے بڑا حصہ یعنی 49 فیصد رہا، جس کی مالیت 1.605 ٹریلین ریال ہے۔
قلیل مدتی کریڈٹ ’ایک سال سے کم‘ 38 فیصد کے ساتھ 1.250 ٹریلین ریال تک پہنچا جبکہ درمیانی مدت کا کریڈٹ ’ایک سے تین سال‘ مجموعی حجم کا 13 فیصد رہا، جس کی مالیت 440.035 ارب ریال ہے۔