امریکی اسرائیلی مشترکہ حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مزید محاذ چھیڑ دیے ہیں۔
مزید پڑھیں
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ تہران پر حملوں اور ایرانی سپریم لیڈر کے قتل کے بعد اب یہ معاملہ روایتی جنگ سے بڑھ کر جوہری تنصیبات، سمندری راستوں، فضائی حدود اور مختلف ممالک کے اندرونی مقامات تک پھیل چکا ہے۔
اس جنگ کے نتیجے میں وسیع تر علاقائی جنگ کے خدشات پہلے سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔
ایران، امریکہ جنگ: تازہ ترین خبروں کے لیے یہاں کلک کریں
ایرانی زیرِ زمین جوہری سائٹ پر اسرائیلی حملہ
اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے تہران کے نزدیک ایک خفیہ فوجی کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے جو ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ تھا۔
بتایا گیا ہے کہ یہ مقام تہران کے مشرقی کنارے پر واقع ہے۔اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق یہاں وہ ایرانی ماہرین منتقل ہوئے تھے جو جون 2025 میں اسرائیلی حملوں میں متاثر ہونے والی جوہری تنصیبات میں کام کر رہے تھے۔
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ باقاعدہ نگرانی کے بعد اس نئے کمپلیکس کا سراغ لگایا گیا ہے، جس کے بعد انتہائی درست حملہ کیا گیا۔
تل ابیب میں میزائل حملے
اسرائیلی میڈیا کے مطابق بدھ کی صبح ایران نے 30 منٹ کے اندر 2 میزائل فائر کیے، جو تل ابیب کے علاقے میں میں گرے اور اس کے نتیجے میں ایک خاتون معمولی زخمی ہوئی۔
اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے القدس میں دھماکوں کی آوازیں سننے کی بھی تصدیق کی۔
50 ہزار امریکی فوجی، 200 طیارے اور 2 ایئرکرافٹ کیریئر
امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ جاری جنگ میں براہِ راست شریک ہے اور اس کے تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی، 200 سے زائد لڑاکا طیارے، 2 ایئر کرافٹ کیریئر آپریشن کا حصہ بن چکے ہیں۔
امریکہ کے مطابق ایران نے500 بیلسٹک میزائل اور تقریباً 2 ہزار ڈرون فائر کیے ہیں۔
اسی کے ساتھ امریکی فوج نے بتایا کہ خلیج، آبنائے ہرمز اور بحرِ عمان میں کوئی بھی ایرانی بحری جہاز اب سرگرم نہیں رہا، اس دوران اب تک ایران کے اندر تقریباً 2 ہزار اہداف تباہ کیے جا چکے ہیں۔
لبنان میں 16 دیہات خالی کرانے کا حکم
اسرائیل نے جنوبی لبنان کی 16 بستیوں کو فوری خالی کرنے کا حکم دے دیا، جسے اب ممکنہ بڑے زمینی یا فضائی حملے کی تیاری سمجھا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ اسرائیل نے بیروت کے مضافات میں صدارتی محل کے قریب علاقے، جنوبی دارالحکومت کے کئی مقامات اور مشرقی لبنان پر بھی بمباری کی، جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔
یاد رہے کہ حزب اللہ نے اتوار اور پیر کی درمیانی رات اسرائیل پر بڑے پیمانے کا حملہ کیا تھا، جسے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ قرار دیا گیا ہے۔
ایران میں مزید بمباری، لبنان بھی میدانِ جنگ
بدھ کے روز اسرائیل نے ایران اور لبنان دونوں پر مزید حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیاں ابھی ہونا باقی ہیں۔
خامنہ ای کا جانشین بھی ہدف ہوگا، اسرائیل کی دھمکی
اُدھر اسرائیل کے وزیرِ دفاع یسرائیل کاٹز نے کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی شخص خامنہ ای کا جانشین بنے گا، وہ اسرائیل کے ہدف پر ہوگا، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔
بغداد ایئرپورٹ کے قریب ڈرون گرا دیا گیا
اُدھر عراق میں بھی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ بدھ کے روز بغداد کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کے نزدیک ایک اور ڈرون مار گرایا گیا ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں منگل کو بھی ایک ڈرون کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ بغداد ایئرپورٹ میں وہ فوجی بیس بھی ہے جہاں کبھی امریکی اتحادی افواج تعینات تھیں اور اب امریکی سفارت خانے کا لاجسٹک یونٹ موجود ہے۔
ایران کے امریکی و اسرائیلی اہداف پر 40 میزائل حملے
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو اعلان کیا کہ 40 بیلسٹک میزائل امریکی اور اسرائیلی اہداف پر داغے گئے ہیں۔ یہ ’الوعد الصادق 4‘آپریشن کی 17ویں لہر تھی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایران کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ
پاسدارانِ انقلاب کے بحری کمانڈر محمد اکبرزادہ نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز اب مکمل طور پر ایرانی کنٹرول میں ہے۔
یاد رہے کہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواباً کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر امریکی بحریہ تیل بردار جہازوں کی حفاظت کرے گی۔
اسرائیل و امریکہ کے مشترکہ حملوں اور ایران کے جواب سے شروع ہونے والی جنگ کے پانچویں دن یہ بات کھل کر واضح ہو چکی ہے کہ یہ تینوں فریق کھل کر میدان میں آ چکے ہیں، جبکہ لبنان، عراق اور خلیجی ممالک بھی اس جنگ سے بڑے پیمانے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فی الحال جنگ کے رکنے کا کوئی اشارہ نظر نہیں آ رہا، جس کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں کوئی بھی واقعہ بڑے پیمانے کی عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔